دیکھو کیسے سرِ مقتل ہے جواں، بولتا ہے
عشق تو اب بھی سرِ نوکِ سناں بولتا ہے
یہ وہ دنیا ہے جہاں چپ نے سبھی جرم کئے
واجب القتل ہے جو شخص یہاں بولتا ہے
تم مِرے خوں کے نشاں کیسے چھپاؤ گے بھلا
آگ لگ جائے مکاں کو تو دھواں بولتا ہے
آشنائی تو نہیں رمزِ تکلم سے، مگر
دوستا! اس نے بھی پا لی ہے زباں، بولتا ہے
فائدہ کچھ بھی نہیں اب تو، اگر چپ بھی رہوں
ایک احساسِ زیاں چیخ کے ”ہاں“ بولتا ہے
وہ اشارہ جو کرے ٹھہرا زماں چلنے لگے
وہ بلائے تو میاں! آبِ رواں بولتا ہے
اپنے مخلص سے نظر پھیر کے کہنا؛ تُو نکل
کوئی اس درجہ بھی سختی سے کہاں بولتا ہے
میں ہوں اس شخص کی خواہش میں گرفتار حیا
جو محبت کو فقط کارِ زیاں بولتا ہے
ماہم حیا صفدر
سلامتی
ReplyDelete