Showing posts with label شان حیدر علوی. Show all posts
Showing posts with label شان حیدر علوی. Show all posts

Saturday, 18 December 2021

کبھی میرے نزدیک آ کر تو دیکھو

 کبھی میرے نزدیک آ کر تو دیکھو

چراغِ 💕محبت جلا کر تو دیکھو

پہنچ جائیں گے ساتھ منزل پہ اک دن

قدم کو قدم سے ملا کر تو دیکھو

عداوت کے شعلے جو تم نے جلائے

انا کو اسی میں جلا کر تو دیکھو

Wednesday, 1 December 2021

ضمیر بیچ کے مسند کو پانے والے لوگ

 ضمیر بیچ کے مسند کو پانے والے لوگ

کہاں پہ پہنچے پتنگے اڑانے والے لوگ

سیاسی داؤں الٹ پھیر مسندوں کی ہوس

ہیں کتنے چھوٹے یہ انعام پانے والے لوگ

کسوٹی جھوٹ کی اور آئينہ سیاست کا 

یہ نقلی سونے کو سچا بنانے والے لوگ

Tuesday, 30 November 2021

ایک چہرے پہ لگے کتنے ہی چہرے دیکھے

 ایک چہرے پہ لگے کتنے ہی چہرے دیکھے

وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے رشتے دیکھے

لوگ گِرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں یہاں

آستینوں میں کئی سانپ بھی پلتے دیکھے

مجھ پہ الزام لگاتا ہے پسِ پشت جو شخص

کون ہوں کیسا ہوں میں، سامنے آ کے دیکھے

Monday, 29 November 2021

آنکھ اس کی شراب ہے صاحب

 آنکھ اس کی شراب ہے صاحب

جس کو پینا ثواب ہے صاحب

میں نے سمجھا تھا جس کو اک دریا

وہ تو شاید سراب ہے صاحب

طیش جس پر بھی تیرا پڑ جائے

اس پہ واجب عذاب ہے صاحب

Sunday, 28 November 2021

محفل عشق سجانے میں مزا آتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


محفلِ عشق سجانے میں مزہ آتا ہے

اپنا ایمان بڑھانے میں مزہ آتا ہے

دل میں مولا کو بسانے میں مزہ آتا ہے

سوئی قسمت کو جگانے میں مزہ آتا ہے

بادشاہوں کی عطا میں ہے کہاں ایسا مزہ

ان سے خیرات جو پانے میں مزہ آتا ہے

یہی سچ ہے حقیت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

 یہی سچ ہے حقیت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

ہمیں تم سے محبت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

شب تاریک میں اکثر یہی محسوس ہوتا ہے

ہمیں تیری ضرورت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے

تیری زلفیں، تیری آنکھیں، یوں تیرا مسکرا دینا

قیامت ہی قیامت ہے، مگر ہم کہہ نہیں سکتے