کبھی میرے نزدیک آ کر تو دیکھو
چراغِ 💕محبت جلا کر تو دیکھو
پہنچ جائیں گے ساتھ منزل پہ اک دن
قدم کو قدم سے ملا کر تو دیکھو
عداوت کے شعلے جو تم نے جلائے
انا کو اسی میں جلا کر تو دیکھو
کبھی میرے نزدیک آ کر تو دیکھو
چراغِ 💕محبت جلا کر تو دیکھو
پہنچ جائیں گے ساتھ منزل پہ اک دن
قدم کو قدم سے ملا کر تو دیکھو
عداوت کے شعلے جو تم نے جلائے
انا کو اسی میں جلا کر تو دیکھو
ضمیر بیچ کے مسند کو پانے والے لوگ
کہاں پہ پہنچے پتنگے اڑانے والے لوگ
سیاسی داؤں الٹ پھیر مسندوں کی ہوس
ہیں کتنے چھوٹے یہ انعام پانے والے لوگ
کسوٹی جھوٹ کی اور آئينہ سیاست کا
یہ نقلی سونے کو سچا بنانے والے لوگ
ایک چہرے پہ لگے کتنے ہی چہرے دیکھے
وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے رشتے دیکھے
لوگ گِرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں یہاں
آستینوں میں کئی سانپ بھی پلتے دیکھے
مجھ پہ الزام لگاتا ہے پسِ پشت جو شخص
کون ہوں کیسا ہوں میں، سامنے آ کے دیکھے
آنکھ اس کی شراب ہے صاحب
جس کو پینا ثواب ہے صاحب
میں نے سمجھا تھا جس کو اک دریا
وہ تو شاید سراب ہے صاحب
طیش جس پر بھی تیرا پڑ جائے
اس پہ واجب عذاب ہے صاحب
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
محفلِ عشق سجانے میں مزہ آتا ہے
اپنا ایمان بڑھانے میں مزہ آتا ہے
دل میں مولا کو بسانے میں مزہ آتا ہے
سوئی قسمت کو جگانے میں مزہ آتا ہے
بادشاہوں کی عطا میں ہے کہاں ایسا مزہ
ان سے خیرات جو پانے میں مزہ آتا ہے
یہی سچ ہے حقیت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
ہمیں تم سے محبت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
شب تاریک میں اکثر یہی محسوس ہوتا ہے
ہمیں تیری ضرورت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے
تیری زلفیں، تیری آنکھیں، یوں تیرا مسکرا دینا
قیامت ہی قیامت ہے، مگر ہم کہہ نہیں سکتے