جل گئیں آنکھیں سبھی خوشرنگ چہرے اُڑ گئے
ایسی گرمی تھی کہ آئینوں کے پارے اڑ گئے
شام تک بھی جب کوئی نکلا نہ دانہ ڈالنے
آنکھ بھر بھر کر منڈیروں سے پرندے اڑ گئے
خُوشبوؤں کے رتھ سے اُترے بال پوچھا اور پھر
تتلیوں کے دوش پر کافوری لمحے اڑ گئے
جل گئیں آنکھیں سبھی خوشرنگ چہرے اُڑ گئے
ایسی گرمی تھی کہ آئینوں کے پارے اڑ گئے
شام تک بھی جب کوئی نکلا نہ دانہ ڈالنے
آنکھ بھر بھر کر منڈیروں سے پرندے اڑ گئے
خُوشبوؤں کے رتھ سے اُترے بال پوچھا اور پھر
تتلیوں کے دوش پر کافوری لمحے اڑ گئے
خوشبوؤں کا شہر اجڑا گھر سے بے گھر ہو گئے
بادشاہت ہاتھ سے نکلی گداگر ہو گئے
تیرگی میں جا پڑے روشن تقاضے صبح کے
جھوٹ سچے تھے جبھی لوگوں کو ازبر ہو گئے
جتنے عرصے ہم رہے خود سر انا کے زیر پا
ذرے سورج بن گئے قطرے سمندر ہو گئے
خشک آنکھوں کی کہانی دشت دشت اپنی ہی تھی
نم ہواؤں میں صدائے بازگشت اپنی ہی تھی
ڈھونڈتے پھرتے رہے تھے سایہ سایہ زندگی
دھوپ کی گلیوں میں صبح و شام گشت اپنی ہی تھی
جاگتی رہتی تھیں آنکھیں خانہ خانہ خوف خوف
خواب کی روشن نمائی طشت طشت اپنی ہی تھی
جب تک تعلقات ہمارے بنے رہے
ہم ایک دوسرے کے سہارے بنے رہے
جب تک کھلے ہوئے تھے دلوں میں غرض کے پھول
تم بھی ہمارے ہم بھی تمہارے بنے رہے
خواہش کے اور چھور سے واقف تھے ہم مگر
دریا کے آر پار کنارے بنے رہے
تھے زمیں پر نہ آسمان میں تھے
ہم دعاؤں کے سائبان میں تھے
گزرے لمحات سے چلو پوچھیں
ہم کہاں اور کس جہان میں تھے
کس طرح کرتے ہم غزل رانی
اک طوالت بھری تکان میں تھے