Showing posts with label پرویز رحمانی. Show all posts
Showing posts with label پرویز رحمانی. Show all posts

Monday, 10 August 2026

جل گئیں آنکھیں سبھی خوشرنگ چہرے اڑ گئے

 جل گئیں آنکھیں سبھی خوشرنگ چہرے اُڑ گئے

ایسی گرمی تھی کہ آئینوں کے پارے اڑ گئے

شام تک بھی جب کوئی نکلا نہ دانہ ڈالنے

آنکھ بھر بھر کر منڈیروں سے پرندے اڑ گئے

خُوشبوؤں کے رتھ سے اُترے بال پوچھا اور پھر

تتلیوں کے دوش پر کافوری لمحے اڑ گئے

Sunday, 8 March 2026

خوشبوؤں کا شہر اجڑا گھر سے بے گھر ہو گئے

 خوشبوؤں کا شہر اجڑا گھر سے بے گھر ہو گئے

بادشاہت ہاتھ سے نکلی گداگر ہو گئے

تیرگی میں جا پڑے روشن تقاضے صبح کے

جھوٹ سچے تھے جبھی لوگوں کو ازبر ہو گئے

جتنے عرصے ہم رہے خود سر انا کے زیر پا

ذرے سورج بن گئے قطرے سمندر ہو گئے

Tuesday, 13 May 2025

خشک آنکھوں کی کہانی دشت دشت اپنی ہی تھی

 خشک آنکھوں کی کہانی دشت دشت اپنی ہی تھی

نم ہواؤں میں صدائے بازگشت اپنی ہی تھی

ڈھونڈتے پھرتے رہے تھے سایہ سایہ زندگی

دھوپ کی گلیوں میں صبح و شام گشت اپنی ہی تھی

جاگتی رہتی تھیں آنکھیں خانہ خانہ خوف خوف

خواب کی روشن نمائی طشت طشت اپنی ہی تھی

Friday, 16 April 2021

جب تک تعلقات ہمارے بنے رہے

جب تک تعلقات ہمارے بنے رہے

ہم ایک دوسرے کے سہارے بنے رہے

جب تک کھلے ہوئے تھے دلوں میں غرض کے پھول

تم بھی ہمارے ہم بھی تمہارے بنے رہے

خواہش کے اور چھور سے واقف تھے ہم مگر

دریا کے آر پار کنارے بنے رہے

Saturday, 3 April 2021

تھے زمیں پر نہ آسمان میں تھے

تھے زمیں پر نہ آسمان میں تھے

ہم دعاؤں کے سائبان میں تھے

گزرے لمحات سے چلو پوچھیں

ہم کہاں اور کس جہان میں تھے

کس طرح کرتے ہم غزل رانی

اک طوالت بھری تکان میں تھے