Friday, 16 April 2021

جب تک تعلقات ہمارے بنے رہے

جب تک تعلقات ہمارے بنے رہے

ہم ایک دوسرے کے سہارے بنے رہے

جب تک کھلے ہوئے تھے دلوں میں غرض کے پھول

تم بھی ہمارے ہم بھی تمہارے بنے رہے

خواہش کے اور چھور سے واقف تھے ہم مگر

دریا کے آر پار کنارے بنے رہے

ارمان ہانپتے رہے دو کھڑکیوں کے بیچ

آنکھوں کے درمیان اشارے بنے رہے

خوشبو بکھیرتی رہی بستر پہ چاندنی

جذبات ساری رات شرارے بنے رہے

پرویز جب تلک تھا محبت پہ اختیار

ہم بھی تمہارے تم بھی ہمارے بنے رہے


پرویز رحمانی

No comments:

Post a Comment