لفظ مانگے تو کبھی اس کے معانی مانگے
یہ سخن روز نئی ایک کہانی مانگے
اس کے عارض سے صبا مانگتی ہے شادابی
اس کے چلنے سے زمیں موجِ روانی مانگے
دل نے اک حشر بپا جسم میں کر رکھا ہے
ایسا کمبخت ہے کہ مئے بھی پرانی مانگے
پھر کوئی تازہ خطا مجھ سے ہوئی ہے سر زد
پھر یہ ماحول کوئی نقلِ مکانی مانگے
اس سے بڑھ کر کوئی اعجاز نہیں ہو سکتا
ایک پیاسے سے جو دریا کبھی پانی مانگے
چھین لی وقت نے جو تابِ سخن کیا کرتا
مجھ سے کیوں پھر وہی پہلی سی روانی مانگے
سہیل ثاقب
No comments:
Post a Comment