Friday, 16 April 2021

لفظ مانگے تو کبھی اس کے معانی مانگے

 لفظ مانگے تو کبھی اس کے معانی مانگے

یہ سخن روز نئی ایک کہانی مانگے

اس کے عارض سے صبا مانگتی ہے شادابی

اس کے چلنے سے زمیں موجِ روانی مانگے

دل نے اک حشر بپا جسم میں کر رکھا ہے

ایسا کمبخت ہے کہ مئے بھی پرانی مانگے

پھر کوئی تازہ خطا مجھ سے ہوئی ہے سر زد

پھر یہ ماحول کوئی نقلِ مکانی مانگے

اس سے بڑھ کر کوئی اعجاز نہیں ہو سکتا

ایک پیاسے سے جو دریا کبھی پانی مانگے

چھین لی وقت نے جو تابِ سخن کیا کرتا

مجھ سے کیوں پھر وہی پہلی سی روانی مانگے


سہیل ثاقب

No comments:

Post a Comment