Friday, 16 April 2021

جانے کیسے لوگ تھے یاد آئے کم جانے کے بعد

 جانے کیسے لوگ تھے یاد آئے کم جانے کے بعد

عیب سارے کھل گئے مرحوم کہلانے کے بعد

چاند کا ہالہ مِری آنکھوں کا جالا بن گیا

کچھ نظر آیا نہ پھر تیرے نظر آنے کے بعد

آدمیت کے سبھی پیمانے ہو جاتے ہیں پاش

بھوک ایسی جاگتی ہے پیٹ بھر جانے کے بعد

اس نے اک اک لفظ کا پیسہ کِیا مجھ سے وصول

کل کی شب میلاد میں تقریر فرمانے کے بعد

میں نے تا حدِ نظر دیکھا کوئی مونس نہ تھا

دوپہر کے وقت برقی موج لہرانے کے بعد


جمال اویسی

No comments:

Post a Comment