Friday, 16 April 2021

تمہیں خبر ہی نہیں کہ یہ جو تمہارا دکھ ہے

تمہیں خبر ہی نہیں کہ یہ جو تمہارا دُکھ ہے

ہمارے رہتے ہوئے تو یہ بهی ہمارا دکھ ہے

ہمیں اکیلے ہی سفر کرنے کی عادتیں ہیں

ہم ایسے لوگوں کے واسطے ہر سہارا دکھ ہے

میں وہ نہیں ہوں جو رو کے شکوہ کروں خدا سے

مجھے خوشی ہے خدا نے مجھ پر اتارا دکھ ہے

مِری نگاہوں سے تیری تصویر ہٹ گئی ہے

اب ان نگاہوں کے واسطے ہر نظارہ دکھ ہے

میں پوچھ بیٹھا تھا بزم میں کہ یہ عشق کیا ہے

تو ایک بندہ بغیر سوچے پکارا، دکھ ہے

وہ بات یہ ہے کہ ہم تمہیں دل سے چاہتے ہیں

اسی لیے تو تمہارا دکھ بھی ہمارا دکھ ہے


جاوید مہدی

No comments:

Post a Comment