محبتوں میں انا دکھانا، ہنسی اڑانا، عجیب ہے ناں
نشے کی حالت میں، میکشی کا گلا دبانا، عجیب ہے ناں
قریب رہ کر بھی دور ہونا، تو قسمتوں کے ہیں کھیل لیکن
ہماری مانند کسی کو کھو کر کسی کو پانا، عجیب ہے ناں
تمہاری آنکھیں بتا رہی ہیں، کہ پیار مجھ سے نہیں ہے تم کو
تو بے دلی سے تمہارا آنا، وفا جتانا، عجیب ہے ناں
وہ جس کی خاطر نبھا رہے ہیں، زمانے بھر کی اذیتوں سے
اسی کا غیروں کیساتھ مل کر، مزے اڑانا، عجیب ہے ناں
ہماری بستی کے لوگ ہیں پاگل، پیار کرتے ہیں آج کل بھی
کہ افراتفری کے دور میں بھی، قرار پانا، عجیب ہے ناں
پسند اس کو اگر نہیں میں، تو پھر پریشان کیوں ہے رہتا
اشارہ کرنا ادھر کو آؤ، پلٹ بھی جانا، عجیب ہے ناں
بجا ہے بلکل کہ ضبط بھی ہے، عطا خدا کی، مگر کسی کا
ہزاروں غم کو گلے لگا کے بھی مسکرانا، عجیب ہے ناں
علی سرمد
No comments:
Post a Comment