Friday, 16 April 2021

ہوش کھو جائے یہ تکرار کہیں رہ جائے

 ہوش کھو جائے یہ تکرار کہیں رہ جائے

لفظ ساکت ہوں نہ گفتار کہیں رہ جائے

بے سبب تیز خرامی پہ نہ جانا لوگو

یوں نہ ہو وقت کی رفتار کہیں رہ جائے

یا مِرا عشق مجھے جینے کی لذت بخشے

یا مِرا صاحب اسرار کہیں رہ جائے

یوں سنوارا ہے محبت میں دھڑکتے دل کو

من کی دنیا میں ثمر بار کہیں رہ جائے

کھینچ لیتا ہے محبت میں جو اپنی جانب

کوچۂ دل میں وہ دلدار کہیں رہ جائے

باغباں تیرے گلستاں کو نہ لگ جائے نظر

پھول گلشن میں ہوں مہکار کہیں رہ جائے

مجھ کو ویران فضاٶں سے نہ خوف آنے لگے

”در کہیں اور ہو ، دیوار کہیں رہ جائے“

کیا خبر دھوپ میں رہنا ہی مقدر ٹھہرے

کیا خبر سایۂ دیوار کہیں رہ جائے

گنگناتی ہوں جسے پیار کی لے پر افروز

میرے لہجے میں وہ ملہار کہیں رہ جائے


افروز رضوی

No comments:

Post a Comment