ہوش کھو جائے یہ تکرار کہیں رہ جائے
لفظ ساکت ہوں نہ گفتار کہیں رہ جائے
بے سبب تیز خرامی پہ نہ جانا لوگو
یوں نہ ہو وقت کی رفتار کہیں رہ جائے
یا مِرا عشق مجھے جینے کی لذت بخشے
یا مِرا صاحب اسرار کہیں رہ جائے
یوں سنوارا ہے محبت میں دھڑکتے دل کو
من کی دنیا میں ثمر بار کہیں رہ جائے
کھینچ لیتا ہے محبت میں جو اپنی جانب
کوچۂ دل میں وہ دلدار کہیں رہ جائے
باغباں تیرے گلستاں کو نہ لگ جائے نظر
پھول گلشن میں ہوں مہکار کہیں رہ جائے
مجھ کو ویران فضاٶں سے نہ خوف آنے لگے
”در کہیں اور ہو ، دیوار کہیں رہ جائے“
کیا خبر دھوپ میں رہنا ہی مقدر ٹھہرے
کیا خبر سایۂ دیوار کہیں رہ جائے
گنگناتی ہوں جسے پیار کی لے پر افروز
میرے لہجے میں وہ ملہار کہیں رہ جائے
افروز رضوی
No comments:
Post a Comment