Showing posts with label احسن اقبال. Show all posts
Showing posts with label احسن اقبال. Show all posts

Thursday, 30 June 2022

رفاقت کیا اذیت ہے، نہیں تو

 رفاقت کیا اذیت ہے نہیں تو

مجھے تم سے محبت ہے، نہیں تو

مجھے کیا خوفِ فرقت ہے، نہیں تو

یہ غم کیا دل کی عادت ہے، نہیں تو

کسی سے کچھ شکایت ہے، نہیں تو


دعا کے بِن، کسی فریاد کے بِن

Sunday, 3 April 2022

اک حسن میرے قتل کا سامان ہو گیا

 اِک حُسن میرے قتل کا سامان ہو گیا

صد شُکر، مرنا اور بھی آسان ہو گیا

تیری نظر کا مجھ پہ یہ احسان ہو گیا

ہر شعر میرا ترکشِ مِژگان ہو گیا

اِک مطلعِ غزل پہ اسے یاد کیا کِیا

پھر دیکھتے ہی دیکھتے دیوان ہو گیا

Friday, 24 September 2021

ہے ورد جابجا میں کبوتر ہوں یار کا

 ہے وِرد جابجا میں کبوتر ہوں یار کا

دیتا رہوں صدا میں کبوتر ہوں یار کا

میرے قریب آ، میں کبوتر ہوں یار کا

آ میرے سنگ گا میں کبوتر ہوں یار کا

پروازِ عشق میری ہے خطرے سے بے نیاز

مجھ کو ہوا سے کیا، میں کبوتر ہوں یار کا

Thursday, 16 September 2021

دل میں کوئی جناب تھا ہی نہیں

 دل میں کوئی جناب تھا ہی نہیں

ہمیں دل دستیاب تھا ہی نہیں

وہ کبھی ہمرکاب تھا ہی نہیں

تھا اگر بے حجاب تھا ہی نہیں

حُسن کا سا حباب تھا ہی نہیں

عشق میں تو یہ باب تھا ہی نہیں

Wednesday, 15 September 2021

سادھو سب سچ جان چکا تھا

 سادھو


سادھو پربت پار کر کے چوٹی پر ہی پہنچا تھا کہ

دور سے مندر کی گھنٹی کو سُن کر وہ حیران ہوا اور

پاس گیا تو اُس نے دیکھا 

مندر کے دالان میں بیٹھی رادھا پُوجا کر رہی ہے

اس منظر کو دیکھ کے سادھو خاموشی سے بیٹھ گیا 

چُپ سادھے وہ دیکھ رہا تھا

Monday, 13 September 2021

اپنی ناکامیوں کی صورت ہوں

 اپنی ناکامیوں کی صُورت ہوں

اور اک دل شکستہ حسرت ہوں

وہ طلب ہوں کہ بے ضرورت ہوں

جلد بازی میں کی حماقت ہوں

میں اذیت ہوں سر بہ سر یعنی

سر بہ سر باعثِ اذیّت ہوں

پڑھ کر درود آنکھ کی پتلی کو نم کرو

 پڑھ کر درود آنکھ کی پُتلی کو نم کرو

وحدت سے چشمِ مست کو یوں محترم کرو

کُھل کے کرو جی کس نے کہا ہے کہ کم کرو

اِس میں سکوں ملے تو مِری جاں ستم کرو 

کمبخت کون کہتا ہے تم اِس کو ضم کرو

نکلے جگر کو چِیر کے ہُو ایسے غم کرو

Friday, 18 June 2021

محو خیال یاس ہیں بے اختیار ہیں

 محوِ خیالِ یاس ہیں، بے اختیار ہیں

ہم بے بسی کے دشت میں چیخ و پکار ہیں

مٹی کا ایک ڈھیر تھے ہم راہِ یار میں

جب سے پڑے ہیں اس کے قدم، اک مزار ہیں

وہ ہے سکوتِ شب کو مٹاتا ہوا دِیا

ہم اس کی لَو پہ ڈگمگاتا انتظار ہیں