رفاقت کیا اذیت ہے نہیں تو
مجھے تم سے محبت ہے، نہیں تو
مجھے کیا خوفِ فرقت ہے، نہیں تو
یہ غم کیا دل کی عادت ہے، نہیں تو
کسی سے کچھ شکایت ہے، نہیں تو
دعا کے بِن، کسی فریاد کے بِن
رفاقت کیا اذیت ہے نہیں تو
مجھے تم سے محبت ہے، نہیں تو
مجھے کیا خوفِ فرقت ہے، نہیں تو
یہ غم کیا دل کی عادت ہے، نہیں تو
کسی سے کچھ شکایت ہے، نہیں تو
دعا کے بِن، کسی فریاد کے بِن
اِک حُسن میرے قتل کا سامان ہو گیا
صد شُکر، مرنا اور بھی آسان ہو گیا
تیری نظر کا مجھ پہ یہ احسان ہو گیا
ہر شعر میرا ترکشِ مِژگان ہو گیا
اِک مطلعِ غزل پہ اسے یاد کیا کِیا
پھر دیکھتے ہی دیکھتے دیوان ہو گیا
ہے وِرد جابجا میں کبوتر ہوں یار کا
دیتا رہوں صدا میں کبوتر ہوں یار کا
میرے قریب آ، میں کبوتر ہوں یار کا
آ میرے سنگ گا میں کبوتر ہوں یار کا
پروازِ عشق میری ہے خطرے سے بے نیاز
مجھ کو ہوا سے کیا، میں کبوتر ہوں یار کا
دل میں کوئی جناب تھا ہی نہیں
ہمیں دل دستیاب تھا ہی نہیں
وہ کبھی ہمرکاب تھا ہی نہیں
تھا اگر بے حجاب تھا ہی نہیں
حُسن کا سا حباب تھا ہی نہیں
عشق میں تو یہ باب تھا ہی نہیں
سادھو
سادھو پربت پار کر کے چوٹی پر ہی پہنچا تھا کہ
دور سے مندر کی گھنٹی کو سُن کر وہ حیران ہوا اور
پاس گیا تو اُس نے دیکھا
مندر کے دالان میں بیٹھی رادھا پُوجا کر رہی ہے
اس منظر کو دیکھ کے سادھو خاموشی سے بیٹھ گیا
چُپ سادھے وہ دیکھ رہا تھا
اپنی ناکامیوں کی صُورت ہوں
اور اک دل شکستہ حسرت ہوں
وہ طلب ہوں کہ بے ضرورت ہوں
جلد بازی میں کی حماقت ہوں
میں اذیت ہوں سر بہ سر یعنی
سر بہ سر باعثِ اذیّت ہوں
پڑھ کر درود آنکھ کی پُتلی کو نم کرو
وحدت سے چشمِ مست کو یوں محترم کرو
کُھل کے کرو جی کس نے کہا ہے کہ کم کرو
اِس میں سکوں ملے تو مِری جاں ستم کرو
کمبخت کون کہتا ہے تم اِس کو ضم کرو
نکلے جگر کو چِیر کے ہُو ایسے غم کرو
محوِ خیالِ یاس ہیں، بے اختیار ہیں
ہم بے بسی کے دشت میں چیخ و پکار ہیں
مٹی کا ایک ڈھیر تھے ہم راہِ یار میں
جب سے پڑے ہیں اس کے قدم، اک مزار ہیں
وہ ہے سکوتِ شب کو مٹاتا ہوا دِیا
ہم اس کی لَو پہ ڈگمگاتا انتظار ہیں