محوِ خیالِ یاس ہیں، بے اختیار ہیں
ہم بے بسی کے دشت میں چیخ و پکار ہیں
مٹی کا ایک ڈھیر تھے ہم راہِ یار میں
جب سے پڑے ہیں اس کے قدم، اک مزار ہیں
وہ ہے سکوتِ شب کو مٹاتا ہوا دِیا
ہم اس کی لَو پہ ڈگمگاتا انتظار ہیں
ہم صوفیوں کے طرز پہ جیتے ہیں عشق میں
جتنے ہیں اہلِ درد ہمارے وہ یار ہیں
احسن اقبال احمد
No comments:
Post a Comment