Friday, 18 June 2021

یہ جو باہر کی دنیا ہے نا کوکھ سے یہ تو یکسر جدا ہے

 متاعِ غرور


تُو نے پہلی دفعہ نرم ہاتھوں سے میرے شکم کو ٹٹولا تھا

تیرے وہ مُکے مِری کوکھ میں 

تیری موجودگی اور شرارت کا پیغام بن کر اُترنے لگے تھے

میں پھُولے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھ کے ہنسی تھی

بہت کھِلکھلائی تھی

لیکن

اے لختِ جگر

یہ جو باہر کی دنیا ہے نا

کوکھ سے یہ تو یکسر جدا ہے

تجھے کیا پتہ ہے

کہ اب تُو نے گھونسا میرے لب و رخسار پر جو دھرا ہے

مِری مامتا کا شکم پھٹ گیا ہے


بشریٰ شاہ

بشریٰ شہزادی

No comments:

Post a Comment