Showing posts with label ضیاالدین نعیم​. Show all posts
Showing posts with label ضیاالدین نعیم​. Show all posts

Sunday, 26 April 2026

وقت ان کے خود نکالے گا بل راستہ بدل

 ہر دم کی کشمکش سے نکل، راستہ بدل 

اب اور ان کے ساتھ نہ چل، راستہ بدل 

یہ خلفشار ذہن یہ خدشے یہ حجتیں 

ان سب کا بس ہے ایک ہی حل، راستہ بدل 

نخوت پرست لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر 

وقت ان کے خود نکالے گا بل، راستہ بدل 

Tuesday, 28 May 2024

پرائے پن کا ہے اب تک پڑاؤ لہجے میں

 پرائے پن کا ہے اب تک پڑاؤ لہجے میں

کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ، لگاؤ لہجے میں

یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی تم نے

عیاں ہے صاف کسی کا دباؤ لہجے میں

عد م توجہی گویا، مِری کھلی اُس کو

تبھی در آیا ہے اتنا تناؤ لہجے میں

Tuesday, 11 May 2021

برتے کچھ امتیاز تو انسان کم سے کم

برتے کچھ امتیاز تو انسان کم سے کم

ہو اپنے دوستوں کی تو پہچان کم سے کم

اہلِ غرض کسی کے ہوئے ہیں جو ہوں مرے

اتنا تو سوچ، اے دلِ نادان! کم سے کم

ہو گا یہی بہت سے بہت، جاں سے جایٔیں گے

رہ جائے گی وفا کی مگر آن کم سے کم

Thursday, 22 April 2021

ملا نہ اس طرح جس طرز سے زمانہ ملا

 ملا نہ اس طرح، جس طرز سے زمانہ ملا

یہ کون شخص تھا جو مجھ سے والہانہ ملا

اور اب تو رزق ہی وابستگی کا محور ہے

اسی کے ہو گئے جس در سے آب و دانہ ملا

لگا کہ جیت مِری اس کو اپنی جیت لگی 

شکست کھا کے بھی وہ مجھ سے فاتحانہ ملا