ہر دم کی کشمکش سے نکل، راستہ بدل
اب اور ان کے ساتھ نہ چل، راستہ بدل
یہ خلفشار ذہن یہ خدشے یہ حجتیں
ان سب کا بس ہے ایک ہی حل، راستہ بدل
نخوت پرست لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر
وقت ان کے خود نکالے گا بل، راستہ بدل
ہر دم کی کشمکش سے نکل، راستہ بدل
اب اور ان کے ساتھ نہ چل، راستہ بدل
یہ خلفشار ذہن یہ خدشے یہ حجتیں
ان سب کا بس ہے ایک ہی حل، راستہ بدل
نخوت پرست لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر
وقت ان کے خود نکالے گا بل، راستہ بدل
پرائے پن کا ہے اب تک پڑاؤ لہجے میں
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ، لگاؤ لہجے میں
یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی تم نے
عیاں ہے صاف کسی کا دباؤ لہجے میں
عد م توجہی گویا، مِری کھلی اُس کو
تبھی در آیا ہے اتنا تناؤ لہجے میں
برتے کچھ امتیاز تو انسان کم سے کم
ہو اپنے دوستوں کی تو پہچان کم سے کم
اہلِ غرض کسی کے ہوئے ہیں جو ہوں مرے
اتنا تو سوچ، اے دلِ نادان! کم سے کم
ہو گا یہی بہت سے بہت، جاں سے جایٔیں گے
رہ جائے گی وفا کی مگر آن کم سے کم
ملا نہ اس طرح، جس طرز سے زمانہ ملا
یہ کون شخص تھا جو مجھ سے والہانہ ملا
اور اب تو رزق ہی وابستگی کا محور ہے
اسی کے ہو گئے جس در سے آب و دانہ ملا
لگا کہ جیت مِری اس کو اپنی جیت لگی
شکست کھا کے بھی وہ مجھ سے فاتحانہ ملا