برتے کچھ امتیاز تو انسان کم سے کم
ہو اپنے دوستوں کی تو پہچان کم سے کم
اہلِ غرض کسی کے ہوئے ہیں جو ہوں مرے
اتنا تو سوچ، اے دلِ نادان! کم سے کم
ہو گا یہی بہت سے بہت، جاں سے جایٔیں گے
رہ جائے گی وفا کی مگر آن کم سے کم
چلیٔے، معاملہ یہ کسی سمت تو ہوا
کم تو ہوا یہ روز کا خلجان کم سے کم
ایسا نہیں کہ مایۂ احساس بھی نہ ہو
اِتنے نہیں ہیں بے سر و سامان کم سے کم
ناممکنات میں سے تو شاید نہ ہو نعیم
آمد بہار کی نہیں آسان کم سے کم
ضیاالدین نعیم
No comments:
Post a Comment