Tuesday, 11 May 2021

ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں

 ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں

پھُولوں کو ستانے کی خاطر ہم خار کی باتیں کرتے ہیں

کچھ لوگ گُلابوں کی صُورت کانٹوں سے گُزارہ کرتے ہیں

محرومِ محبت ہو کر بھی وہ پیار کی باتیں کرتے ہیں

کلیوں کو چٹکتا دیکھ کے جو بِجلی کو پُکارا کرتے تھے

اب راکھ اُڑا کر لوگ وہی گُلزار کی باتیں کرتے ہیں

افسوس ہے ان انسانوں پر جو چند نوالوں کی خاطِر

شاہوں کے قصیدے لکھتے ہیں سرکار کی باتیں کرتے ہیں

دیکھا ہے جب سے پھُولوں نے اے جان تمہارے چہرے کو

آپس میں تمہارے ہونٹوں کی رُخسار کی باتیں کرتے ہیں

جو ساری عمر فصیلوں میں سورج کی شعاعوں کو ترسے

وہ لوگ ہمیں سے کُوچہ کی بازار کی باتیں کرتے ہیں

جو رات کو اپنے ساتھ لیے آئے تھے شہر کی گلیوں میں

اب نُور کے تڑکے صُبحوں کے آثار کی باتیں کرتے ہیں

وہ زِندہ تھا تو کوئی بھی پُرسانِ حال نہ تھا اُس کا

اب کتنے شوق سے لوگ اسی بیمار کی باتیں کرتے ہیں


بشیر احمد شاد

No comments:

Post a Comment