Showing posts with label بشریٰ حزیں. Show all posts
Showing posts with label بشریٰ حزیں. Show all posts

Friday, 30 December 2016

جو برا ہو اسے بے خوف برا کہتے ہیں

جو بُرا ہو، اسے بے خوف بُرا کہتے ہیں
ڈر کے اچھا جو کہے وہ بھی برا کہتے ہیں
ایک ہی لفظ اترتا ہے سماعت میں، مگر
لوگ کہتے ہیں الگ، ہم بھی جدا کہتے ہیں
آتی جاتی یہ رُتیں یاد دلاتی ہیں تیری
کوئی موسم ہو اسے تیری ادا کہتے ہیں

آؤ نا بھیگے بھیگے موسم میں

آؤ نا 
بھیگے بھیگے موسم میں
بھیگے بھیگے منظر
ساکت لمحوں کی آنکھوں میں
صدیوں کی ویرانی جیسے
بھیگے بھیگے منظر

پیار سے میں جو روشنی رکھوں

پیار سے میں جو روشنی رکھوں
دھوپ کے گھر میں چاندنی رکھوں
ساری نظروں سے دوں فریب نکال
سارے چہروں پہ سادگی رکھوں
آگ ہی آگ،۔ آگہی کیسی
خار پر کیسے تازگی رکھوں

Wednesday, 28 December 2016

آس یہاں اچھے کی امید ایسے ہی ہے

آس

یہاں
اچھے کی امید ایسے ہی ہے
جیسے
سورج کے مغرب سے نکلنے کا امکان
تاریخ کے ہولناک تھپیڑے

دہشت گردی الامان و الحفیظ و الحذر

دہشت گردی

الامان و الحفیظ و الحذر
ہو چکی اب تو خمیدہ
میرے
ایماں کی کمر
جھک گئے شملے سبھی اجداد کی تاریخ کے

سچے موتی

سُچے موتی

کانچ کو
ہیرا، موتی کہہ کے
سر آنکھوں پہ بٹھاتے ہو
کھوٹے سِکے بے شرمی سے
کیسے خوب چلاتے ہو

میرے آنچل تلے آنکھ مت کھولئیے

میرے آنچل تلے آنکھ مت کھولیۓ
اور سو لیجیۓ آنکھ مت کھولیۓ

نیند کو نیند آئی نہیں ہے ابھی
پیار سپنوں کی دیوی یہیں ہے ابھی
جل رہے ہیں دیے آنکھ مت کھولیۓ
اور سو لیجیۓ آنکھ مت کھولیۓ

Saturday, 29 October 2016

کتبہ

کتبہ

میں نے اپنے گھر کے
سب لوگوں کے چہروں کی
اونچی دیوار کے پیچھے 
اس کا چہرہ چُن دیا ہے
اس اونچی دیوار سے لگ کے 
رو رہی ہے ۔۔ انارکلی

بشریٰ حزیں

اندھیرے جگمگاتے ہیں تری جب یاد آتی ہے

اندھیرے جگمگاتے ہیں تِری جب یاد آتی ہے
ستارے مسکراتے ہیں تِری جب یاد آتی ہے
تمہارے ساتھ وابستہ ہماری ذات ہے ایسے
ہمِیں ہم یاد آتے ہیں تِری جب یاد آتی ہے
ترنم ہو، تخیل ہو کہ جانِ شاعری تم ہو
نظارے گنگناتے ہیں تِری جب یاد آتی ہے

آہ کے تار سے بندھی سانسیں

آہ کے تار سے بندھی سانسیں
ہائے یہ زہر میں بجھی سانسیں
کاٹتی کیوں نہیں رگِ ہستی
اف یہ سینے کو کاٹتی سانسیں
رات میں زہر گھول دیتی ہیں 
جاگتی اور سوچتی سانسیں