اپنے اجداد کے گُم گشتہ زمانوں کی طرح
یادِ ماضی ہے میرے دل میں خزانوں کی طرح
ہیں طیورانِ چمن یادِ خُدا میں مشغول
نخل کی شاخوں پہ ہرصبح اذانوں کی طرح
اپنی پاکیزگیِ نفس کو میں پاتا ہوں
صحنِ احساس میں تسبیح کے دانوں کی طرح
لَو دیا کرتی ہیں بچپن کی وہ روشن یادیں
دل میں احساس کے ہیرے کی کھدانوں کی طرح
آپ نے توڑ دیا عہدِ وفا، خوب کِیا
اب کہاں رسمِ وفا پچھلے زمانوں کی طرح
آپ کے ظُلم کی یادوں کی کسک اج بھی ہے
رُوحِ مجروح پہ زخموں کے نشانوں کی طرح
پیار، ایثار، وفا شرم و حیا کے ایوان
مُنہدم ہو گئے بوسیدہ مکانوں کی طرح
معاف کیجیے مجھے تنہائی غنیمت ہے مجھے
مجھ سے مِلیے نہ شب و روز سیانوں کی طرح
احسن لکھنوی
No comments:
Post a Comment