ہر سمت تھی بہار خزاں کا گزر نہ تھا
لیکن ہمارے ساتھ کوئی راہبر نہ تھا
جس نے خِرد کی راہ دکھائی بہار میں
وہ راہ میں جنوں کی مِرا ہمسفر نہ تھا
قیدِ حیات و موت میں کیوں اتنی الجھنیں
ایسا تو راستہ یہ کوئی پُر خطر نہ تھا
تارِ نفس کے ٹُوٹتے ہی راہ طے ہوئی
جانا جہان سے کوئی ایسا سفر نہ تھا
گزری تمام عمر وصیہ وفاؤں میں
لیکن تِرے غموں سے کوئی باخبر نہ تھا
فاطمہ وصیہ جائسی
No comments:
Post a Comment