Wednesday, 15 July 2026

ہر سمت تھی بہار خزاں کا گزر نہ تھا

ہر سمت تھی بہار خزاں کا گزر نہ تھا

لیکن ہمارے ساتھ کوئی راہبر نہ تھا

جس نے خِرد کی راہ دکھائی بہار میں

وہ راہ میں جنوں کی مِرا ہمسفر نہ تھا

قیدِ حیات و موت میں کیوں اتنی الجھنیں

ایسا تو راستہ یہ کوئی پُر خطر نہ تھا

تارِ نفس کے ٹُوٹتے ہی راہ طے ہوئی

جانا جہان سے کوئی ایسا سفر نہ تھا

گزری تمام عمر وصیہ وفاؤں میں

لیکن تِرے غموں سے کوئی باخبر نہ تھا


فاطمہ وصیہ جائسی 

No comments:

Post a Comment