وہ بگڑتے ہی رہے کِھسکے نہ اس محفل سے ہم
اپنی عادت سے تھے وہ مجبور، اپنے دل سے ہم
تھا رقیبوں کا اک ہنگامہ بچے مُشکل سے ہم
جُوتا ٹوپی چھوڑ کر بھاگ آئے اس محفل سے ہم
جان کے ٹکراتے ہم،۔ دونوں تلے اوپر گِرے
وہ اُدھر رکشا سے اُلٹے اور اِدھر سائیکل سے ہم
بولی لیلیٰ قیس سے؛ کھینچی جو ناقہ کی نکیل
بھاگ جائیں گے گھر اپنے کُود کر محمل سے ہم
وصل کی شب ہائے کمزوری یہ تُو نے کیا کِیا
اپنی منزل پر پہنچ کر دُور ہیں منزل سے ہم
انجم مانپوری
نور محمد
No comments:
Post a Comment