تار کی جھنکار ہی سے بزم تھرا جائے ہے
گاہے گاہے ساز ہستی یوں بھی چھیڑا جائے ہے
قافلہ چُھوٹے زمانہ ہو گیا لیکن ہنوز
یاد آواز جرس رہ رہ کے تڑپا جائے ہے
خود زمانہ رُخ ہمارا دیکھتا ہے ہم نہیں
جس طرف مُڑتے ہیں ہم دھارا بھی مُڑتا جائے ہے
تار کی جھنکار ہی سے بزم تھرا جائے ہے
گاہے گاہے ساز ہستی یوں بھی چھیڑا جائے ہے
قافلہ چُھوٹے زمانہ ہو گیا لیکن ہنوز
یاد آواز جرس رہ رہ کے تڑپا جائے ہے
خود زمانہ رُخ ہمارا دیکھتا ہے ہم نہیں
جس طرف مُڑتے ہیں ہم دھارا بھی مُڑتا جائے ہے
جب قفس میں مجھ کو یاد آشیاں آ جائے ہے
سامنے آنکھوں کے اک بجلی سی لہرا جائے ہے
دل مِرا وہ خانۂ ویراں ہے جل بجھنے پہ بھی
راکھ سے جس کی دھواں تا دیر اٹھتا جائے ہے
تم تو ٹھکرا کر گزر جاؤ تمہیں ٹوکے گا کون
میں پڑا ہوں راہ میں تو کیا تمہارا جائے ہے
سوال ہدیۂ جاں مجھ سے اور پھر پس و پیش
میں پوچھتا ہوں یہ کیا آپ کو گماں گُزرا
لبوں پہ میرے تبسم تھا ان کی آنکھیں نم
ایک ایسا لمحہ بھی وقتِ وداع جاں گزرا
اس التفاتِ فراواں کے جائے صدقے
وہ میرے پاس سے جب گُزرا سرگراں گزرا
صرف اک لرزش ہے نوکِ خار پر شبنم کی بُوند
پھر بھی اس فُرصت پر اس کی مجھ کو رشک آ جائے ہے
میری تنہائی نہ پُوچھو جیسے کوئی نقشِ پا
دُور صحرا کے کسی گوشہ میں پایا جائے ہے
سنگ کیا ہے بس سراپا انتظار بُت تراش
زندگی کا خواب لوگو یوں بھی دیکھا جائے ہے