Showing posts with label نیاز فتحپوری. Show all posts
Showing posts with label نیاز فتحپوری. Show all posts

Wednesday, 6 March 2024

تار کی جھنکار ہی سے بزم تھرا جائے ہے

 تار کی جھنکار ہی سے بزم تھرا جائے ہے 

گاہے گاہے ساز ہستی یوں بھی چھیڑا جائے ہے 

قافلہ چُھوٹے زمانہ ہو گیا لیکن ہنوز 

یاد آواز جرس رہ رہ کے تڑپا جائے ہے 

خود زمانہ رُخ ہمارا دیکھتا ہے ہم نہیں 

جس طرف مُڑتے ہیں ہم دھارا بھی مُڑتا جائے ہے 

Sunday, 21 January 2024

جب قفس میں مجھ کو یاد آشیاں آ جائے ہے

 جب قفس میں مجھ کو یاد آشیاں آ جائے ہے 

سامنے آنکھوں کے اک بجلی سی لہرا جائے ہے 

دل مِرا وہ خانۂ ویراں ہے جل بجھنے پہ بھی 

راکھ سے جس کی دھواں تا دیر اٹھتا جائے ہے 

تم تو ٹھکرا کر گزر جاؤ تمہیں ٹوکے گا کون 

میں پڑا ہوں راہ میں تو کیا تمہارا جائے ہے 

Friday, 19 January 2024

سوال ہدیۂ جاں مجھ سے اور پھر پس و پیش

 سوال ہدیۂ جاں مجھ سے اور پھر پس و پیش 

میں پوچھتا ہوں یہ کیا آپ کو گماں گُزرا 

لبوں پہ میرے تبسم تھا ان کی آنکھیں نم 

ایک ایسا لمحہ بھی وقتِ وداع جاں گزرا 

اس التفاتِ فراواں کے جائے صدقے 

وہ میرے پاس سے جب گُزرا سرگراں گزرا 

Thursday, 25 March 2021

زندگی کا خواب لوگو یوں بھی دیکھا جائے ہے

صرف اک لرزش ہے نوکِ خار پر شبنم کی بُوند 

پھر بھی اس فُرصت پر اس کی مجھ کو رشک آ جائے ہے 

میری تنہائی نہ پُوچھو جیسے کوئی نقشِ پا 

دُور صحرا کے کسی گوشہ میں پایا جائے ہے 

سنگ کیا ہے بس سراپا انتظار بُت تراش 

زندگی کا خواب لوگو یوں بھی دیکھا جائے ہے