Sunday, 21 January 2024

لمحوں نے یوں سمیٹ لیا فاصلہ بہت

لمحوں نے یوں سمیٹ لیا فاصلہ بہت

میں نے پڑھا تو کچھ نہ تھا لیکن پڑھا بہت

کتنے جنوں نواز بچھڑ کے چلے گئے

جوش جنوں کے ساتھ نہ تھا ولولہ بہت

ڈوبا سفینہ جس میں مسافر کوئی نہ تھا

لیکن بھرے ہوئے تھے وہاں نا خدا بہت

سو دائروں میں بٹ کے نمایاں نہ ہو سکے

سوچو اگر تو ہوگا بس اک دائرہ بہت

شاید یہی کتاب محبت ہو لا جواب

میری وفا کے ساتھ ہے تیری جفا بہت

زخموں کے ساتھ ساتھ نمک پاشیاں بھی تھیں

دیکھا ہے میرے عشق نے یہ سلسلہ بہت

آنکھوں میں دم ٹکا ہے وہ آ جائیں اس گھڑی

دست طلب ہے میرے لیے یہ دعا بہت

تجھ کو شہید سادہ دلی کی نظر لگی

امکان ورنہ تیرے لیے بھی رہا بہت


عزیزالرحمٰن شہید فتح پوری

عزیزالرحمٰن قریشی

No comments:

Post a Comment