جس کا بھی محبت پر ایمان نہیں ہوتا
آدم تو وہ ہوتا ہے،۔ انسان نہیں ہوتا
خیرات دِیا کیجے، یہ رب سے تجارت ہے
اور رب سے تجارت میں نُقصان نہیں ہوتا
دیکھا ہے اُسے چُھو کر، وہ آگ کی گُڑیا ہے
اور آگ کو چُھو لینا آسان نہیں ہوتا
ہر غم میں کہاں شِدّت اے یار تِرے غم کی
ہر چھوٹا بڑا جھکّڑ طُوفان نہیں ہوتا
دن رات پرندوں کی رہتی ہے بہت رونق
اک پل بھی مِرا آنگن وِیران نہیں ہوتا
اُس رات کے رازوں پر غزلیں نہ کہو فارس
اس طرح کی باتوں کا اعلان نہیں ہوتا
رحمان فارس
No comments:
Post a Comment