بے سبب لب پر تبسم میں نہ تھا تو کون تھا
نرم لہجے میں ترنم، میں نہ تھا تو کون تھا
آپ کا طرذِ بیاں ہے دلنشیں جاناں، مگر
جاذبِ رنگ تکلم میں نہ تھا تو کون تھا
محفل تنہائی میں جو اشکِ پیہم تھے رواں
بارہا اس میں تلاطم میں نہ تھا تو کون تھا
بے سبب لب پر تبسم میں نہ تھا تو کون تھا
نرم لہجے میں ترنم، میں نہ تھا تو کون تھا
آپ کا طرذِ بیاں ہے دلنشیں جاناں، مگر
جاذبِ رنگ تکلم میں نہ تھا تو کون تھا
محفل تنہائی میں جو اشکِ پیہم تھے رواں
بارہا اس میں تلاطم میں نہ تھا تو کون تھا
ساتھ خوشیوں کو رکھا مگر بے بسی کو الگ ہی رکھا
حسرت و یاس و ناکامی سے زندگی کو الگ ہی رکھا
جو بھی رکھا وہ رکھا مگر بے خودی کو الگ ہی رکھا
جب سے ذوقِ شعور آ گیا، آگہی کو الگ ہی رکھا
یہ الگ بات ہے دن تمام منصبِ افسری پر رہے
ساتھ بچوں کے جب ہو لیے افسری کو الگ ہی رکھا
کل کا منظر بھی وہی تھا کہ دِگر تھا کیا تھا
قابل دید تھا یا وارِ نظر تھا، کیا تھا
مجھ میں پنہاں کوئی معصوم بشر تھا کیا تھا
وقتِ آغاز میں انجام کا ڈر تھا، کیا تھا
دامنِ شام لہو کر گیا سورج کا ملال
رات زخمی رہی یا دردِ سحر تھا، کیا تھا
تاریخ نے بتائی ہے یہ داستانِ زخم
آباد آدمی نے کیا اک جہانِ زخم
آنکھوں میں رنج و غم کا سمندر تھا موجزن
جونہی زمینِ دل پہ جھکا آسمانِ زخم
کیا پوچھتے ہو کیا ملا بازارِ عشق میں
کچھ بھی نہ تھا سوائے جنون و دکانِ زخم
رغبت ہمیں ہر در سے ہے اس در کے علاوہ
کچھ مل نہ سکا ہم کو مقدر کے علاوہ
ہیں کیسے یہ موسم کہ نگاہوں کے لیے آج
کچھ بھی نہیں دہشت زدہ منظر کے علاوہ
کس طرح کے طوفاں کی ہے آمد نہیں معلوم
ہر شے میں ہے اک شور سمندر کے علاوہ