Showing posts with label طاہر بلال. Show all posts
Showing posts with label طاہر بلال. Show all posts

Thursday, 15 September 2022

بے سبب لب پر تبسم میں نہ تھا تو کون تھا

 بے سبب لب پر تبسم میں نہ تھا تو کون تھا

نرم لہجے میں ترنم، میں نہ تھا تو کون تھا

آپ کا طرذِ بیاں ہے دلنشیں جاناں، مگر

جاذبِ رنگ تکلم میں نہ تھا تو کون تھا

محفل تنہائی میں جو اشکِ پیہم تھے رواں

بارہا اس میں تلاطم میں نہ تھا تو کون تھا

Thursday, 8 September 2022

ساتھ خوشیوں کو رکھا مگر بے بسی کو الگ ہی رکھا

 ساتھ خوشیوں کو رکھا مگر بے بسی کو الگ ہی رکھا

حسرت و یاس و ناکامی سے زندگی کو الگ ہی رکھا

جو بھی رکھا وہ رکھا مگر بے خودی کو الگ ہی رکھا

جب سے ذوقِ شعور آ گیا، آگہی کو الگ ہی رکھا

یہ الگ بات ہے دن تمام منصبِ افسری پر رہے

ساتھ بچوں کے جب ہو لیے افسری کو الگ ہی رکھا

Sunday, 4 September 2022

کل کا منظر بھی وہی تھا کہ دگر تھا کیا تھا

 کل کا منظر بھی وہی تھا کہ دِگر تھا کیا تھا

قابل دید تھا یا وارِ نظر تھا، کیا تھا

مجھ میں پنہاں کوئی معصوم بشر تھا کیا تھا

وقتِ آغاز میں انجام کا ڈر تھا، کیا تھا

دامنِ شام لہو کر گیا سورج کا ملال

رات زخمی رہی یا دردِ سحر تھا، کیا تھا

Thursday, 17 February 2022

تاریخ نے بتائی ہے یہ داستان زخم

 تاریخ نے بتائی ہے یہ داستانِ زخم

آباد آدمی نے کیا اک جہانِ زخم

آنکھوں میں رنج و غم کا سمندر تھا موجزن

جونہی زمینِ دل پہ جھکا آسمانِ زخم

کیا پوچھتے ہو کیا ملا بازارِ عشق میں

کچھ بھی نہ تھا سوائے جنون و دکانِ زخم

Friday, 10 September 2021

رغبت ہمیں ہر در سے ہے اس در کے علاوہ

 رغبت ہمیں ہر در سے ہے اس در کے علاوہ

کچھ مل نہ سکا ہم کو مقدر کے علاوہ

ہیں کیسے یہ موسم کہ نگاہوں کے لیے آج

کچھ بھی نہیں دہشت زدہ منظر کے علاوہ

کس طرح کے طوفاں کی ہے آمد نہیں معلوم

ہر شے میں ہے اک شور سمندر کے علاوہ