Thursday, 8 September 2022

ساتھ خوشیوں کو رکھا مگر بے بسی کو الگ ہی رکھا

 ساتھ خوشیوں کو رکھا مگر بے بسی کو الگ ہی رکھا

حسرت و یاس و ناکامی سے زندگی کو الگ ہی رکھا

جو بھی رکھا وہ رکھا مگر بے خودی کو الگ ہی رکھا

جب سے ذوقِ شعور آ گیا، آگہی کو الگ ہی رکھا

یہ الگ بات ہے دن تمام منصبِ افسری پر رہے

ساتھ بچوں کے جب ہو لیے افسری کو الگ ہی رکھا

تیری عظمت کی خاطر وطن جان و دل تجھ پہ قرباں مگر

ہم نے چاہت کو رکھا الگ، بندگی کو الگ ہی رکھا

اے عدو! لاکھ سامان کر میری بربادی کے تُو مگر

میرے اللہ نے تو میری برتری کو الگ ہی رکھا

اس جہاں کی ہر چیز میں یوں تو قدرت نے رکھا نشہ

تیری آنکھوں کی اے جانِ جاں میکشی کو الگ ہی رکھا

سارے رشتوں سے رشتہ رہے بس یہی سوچ کر اے بلال

پیار و الفت کو رکھا الگ، عاشقی کو الگ ہی رکھا


طاہر بلال

No comments:

Post a Comment