دشمن پہ رکھ کے دیتے ہو گالی عتاب میں
ہے ہر سخن زباں پہ تمہاری حجاب میں
بحر جہاں میں زیست نہ ہو کیوں حباب وار
نقطوں ہی کا ہے فرق حیات و حباب میں
آنکھیں یہ عاشقوں کی ہیں تجھ پر لگی ہوئیں
چھاپے نہیں ہیں یہ گلِ نرگس نقاب میں
بعدِ فنا بھی شاہ سوار سمندِ ناز
حاضر ہیں مثلِ ریگِ رواں ہمرکاب میں
دوزخ نصیب مردمِ آبی کو ہو ابھی
ٹپکے جو اشکِ گرم کوئی اپنا آب میں
ہر دم روا روی میں ہے یہ توسنِ حباب
ہر وقت اپنا پاؤں ہے گویا رکاب میں
دریا کا نام شور سے منسوب ہو گیا
دھویا جو تم نے لعلِ نمک سا کو آب میں
صابر فقط سخن میں ہے اب لطف عاشقی
ہر بات کا مزا تھا شروعِ شباب میں
صابر دہلوی
مرزا قادر بخش
No comments:
Post a Comment