Showing posts with label حیدر قریشی. Show all posts
Showing posts with label حیدر قریشی. Show all posts

Monday, 3 October 2022

کچھ کہہ رہی ہے پھر مری افسردگی مجھے

 کچھ کہہ رہی ہے پھر مِری افسردگی مجھے

شاید کسی کی یاد نے چھیڑا ابھی مجھے

میں منزلوں کی کھوج میں خود سے بچھڑ گیا

پھر عمر بھر تلاش ہی اپنی رہی مجھے

انجانے راستے سبھی جانے ہوئے لگے

لگتی تھی اجنبی مِری آوارگی مجھے

Tuesday, 19 April 2022

اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں

 اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں

یا پھر آؤ مل کر ٹوٹیں اور کھنڈر ہو جائیں

ایک نماز پڑھیں یوں دونوں اور دعا یوں مانگیں

یا سجدے سے سر نہ اٹھے یا لفظ اثر ہو جائیں

خیر اور شر کی کی آمیزش اور آویزش سے نکھریں

بھول اور توبہ کرتے ساری سانسیں بسر ہو جائیں

Thursday, 17 March 2022

وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

 وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے

جیسے یہ پہلا اور آخری میل ہوا ہو

حال تو دونوں نے بے حالے کر رکھے تھے

کھوج رہے تھے روح کو جسموں کے رستے سے

طور طریقے پاگلوں والے کر رکھے تھے

Thursday, 22 October 2020

جو بس میں ہے وہ کر جانا ضروری ہو گیا ہے

 جو بس میں ہے وہ کر جانا ضروری ہو گیا ہے

تری چاہت میں مر جانا ضروری ہو گیا ہے

ہمیں تو اب کسی اگلی محبت کے سفر پر

نہیں جانا تھا پر جانا ضروری ہو گیا ہے

ستارا جب مِرا گردش سے باہر آ رہا ہے

تو پھر دل کا ٹھہر جانا ضروری ہو گیا ہے

Tuesday, 13 December 2016

جہاں بھر میں ہمارے عشق کی تشہیر ہو جائے

جہاں بھر میں ہمارے عشق کی تشہیر ہو جائے
اسے کس نے کہا تھا دل پہ یوں تحریر ہو جائے
میں سچا ہوں تو پھر آئے مِری تقدیر ہو جائے 
میں جھوٹا ہوں تو میرے جرم کی تعزیر ہو جائے 
میں اپنے خواب سے کہتا ہوں آنکھوں سے نکل آئے 
ذرا آگے بڑھے اور خواب سے تعبیر ہو جائے 

خود اپنے ہونٹوں پہ صدیوں کی پیاس رکھتا ہے

خود اپنے ہونٹوں پہ صدیوں کی پیاس رکھتا ہے
وہ ایک شخص جو مجھ کو اداس رکھتا ہے
نہیں وہ رنگ پہ رنگوں سا عکس ہے اس کا
نہیں وہ پھول پہ پھولوں سی باس رکھتا ہے
یہ اور بات، کہ اقرار کر نہیں پاتا
مگر وہ دل تو محبت شناس رکھتا ہے

Friday, 9 October 2015

کعبے میں جا کے یا کہیں پتھر تراش کر

کعبے میں جا کے یا کہیں پتھر تراش کر
ممکن ہو جس طرح بھی خدا کو تلاش کر
کوئی صدا ہے تُو تو مِرے دل میں ڈوب جا
ہے راز تو لبوں پہ مِرے خود کو فاش کر
وہ موم ہے اگر تو اسے دھوپ سے بچا
پتھر ہے اس کا دل تو اسے پاش پاش کر

حدیث درد کی پہلے کوئی کتاب لکھو

حدیثِ درد کی پہلے کوئی کتاب لِکھو
پھر اہلِ جور کے نام اس کا انتساب لکھو
خوشی کے لمحے لکھو، عمرِ اضطراب لکھو
نکالو وقت کبھی، عشق کا حساب لکھو
تمہارے خواب کی تعبیر اب پرائی سہی
تمہارا خواب تو اپنا ہے، اپنا خواب لکھو

عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں

عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں
سِسکتی پیاس لبوں پر، فرات آنکھوں میں
پھر اس کو دامنِ دل میں کہاں کہاں رکھیں
سمیٹ سکتے ہیں جو کائنات آنکھوں میں
تمہیں تو گردشِ دوراں نے روند ڈالا ہے
رہی نہ کوئی بھی پہلی سی بات آنکھوں میں

چھوڑ گئے سب تجھ کو تیری غزلوں والے لوگ

چھوڑ گئے سب تجھ کو تیری غزلوں والے لوگ
میرے شاعر سب کے دُکھ اب تنہا بیٹھا بھوگ
عشق اور نوکری مِل کے دونوں چُوس گئے ہیں تجھ کو
تُو تو بس اب ایسے ہے جیسے گنّے کا پھوک
اس سے شکوہ کرنے کا تو حق ہی نہیں بنتا ہے
پتھر کو معلوم ہو کیسے آئینے کا روگ

دلوں میں دشمنوں کے اس طرح ڈر بول اٹھتے ہیں

دلوں میں دشمنوں کے اس طرح ڈر بول اُٹھتے ہیں
گواہی کو چھپاتے ہیں، تو منظر بول اٹھتے ہیں
مِری سچائی، میری بے گناہی سب پہ ظاہر ہے
کہ اب جنگل، کنویں، صحرا، سمندر بول اٹھتے ہیں
وہ پتھر دل سہی لیکن ہمارا بھی یہ دعویٰ ہے
ہمارے لب جنہیں چھو لیں وہ پتھر بول اٹھتے ہیں

لفظ تیری یاد کے سب بے صدا کر آئے ہیں

لفظ  تیری یاد کے سب بے صدا کر آئے ہیں
سارے منظر آئینوں سے خود مِٹا کر آئے ہیں
ایک لمحے میں کئی برسوں کے ناطے توڑ کر
سوچتے ہیں، اپنے ہاتھوں سے یہ کیا کر آئے ہیں
راستے تو کھو چکے تھے اپنی ہر پہچان  تک
ہم جنازے منزلوں  کے خود اٹھا کر آئے ہیں

Sunday, 5 August 2012

کسی بھی لفظ کا جادو اَثر نہیں کرتا

کسی بھی لفظ کا جادو اَثر نہیں کرتا
وہ اپنے دل کی مجھے بھی خبر نہیں کرتا
بنا ہوا ہے بظاہر وہ بے تعلّق بھی
جو مجھ کو سوچے بِنا دن بسر نہیں کرتا
ٹھہرنے بھی نہیں دیتا ہے اپنے دل میں مجھے
محبتیں بھی مِری دل بدر نہیں کرتا

Thursday, 26 July 2012

جب تیر چل گیا تو کماں بھی نہیں رہی

جب تیر چل گیا، تو کماں بھی نہیں رہی
لگتا تھا جیسے جسم میں جاں بھی نہیں رہی
سارے حسِین بیچتے پِھرتے ہیں شہر میں
جنسِ وفا، اب ایسی گراں بھی نہیں رہی
وہ مسکرا کے پوچھتے تھے مدعائے دل
اور اپنے منہ میں جیسے زباں بھی نہیں رہی