کچھ کہہ رہی ہے پھر مِری افسردگی مجھے
شاید کسی کی یاد نے چھیڑا ابھی مجھے
میں منزلوں کی کھوج میں خود سے بچھڑ گیا
پھر عمر بھر تلاش ہی اپنی رہی مجھے
انجانے راستے سبھی جانے ہوئے لگے
لگتی تھی اجنبی مِری آوارگی مجھے
کچھ کہہ رہی ہے پھر مِری افسردگی مجھے
شاید کسی کی یاد نے چھیڑا ابھی مجھے
میں منزلوں کی کھوج میں خود سے بچھڑ گیا
پھر عمر بھر تلاش ہی اپنی رہی مجھے
انجانے راستے سبھی جانے ہوئے لگے
لگتی تھی اجنبی مِری آوارگی مجھے
اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں
یا پھر آؤ مل کر ٹوٹیں اور کھنڈر ہو جائیں
ایک نماز پڑھیں یوں دونوں اور دعا یوں مانگیں
یا سجدے سے سر نہ اٹھے یا لفظ اثر ہو جائیں
خیر اور شر کی کی آمیزش اور آویزش سے نکھریں
بھول اور توبہ کرتے ساری سانسیں بسر ہو جائیں
وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے
جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے
جیسے یہ پہلا اور آخری میل ہوا ہو
حال تو دونوں نے بے حالے کر رکھے تھے
کھوج رہے تھے روح کو جسموں کے رستے سے
طور طریقے پاگلوں والے کر رکھے تھے
جو بس میں ہے وہ کر جانا ضروری ہو گیا ہے
تری چاہت میں مر جانا ضروری ہو گیا ہے
ہمیں تو اب کسی اگلی محبت کے سفر پر
نہیں جانا تھا پر جانا ضروری ہو گیا ہے
ستارا جب مِرا گردش سے باہر آ رہا ہے
تو پھر دل کا ٹھہر جانا ضروری ہو گیا ہے