Tuesday, 19 April 2022

اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں

 اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں

یا پھر آؤ مل کر ٹوٹیں اور کھنڈر ہو جائیں

ایک نماز پڑھیں یوں دونوں اور دعا یوں مانگیں

یا سجدے سے سر نہ اٹھے یا لفظ اثر ہو جائیں

خیر اور شر کی کی آمیزش اور آویزش سے نکھریں

بھول اور توبہ کرتے ساری سانسیں بسر ہو جائیں

ہم ازلی آوارہ جن کا گھر ہی نہیں ہے کوئی

لیکن جن رستوں سے گزریں گھر ہو جائیں

صوفی، سادھو بن کر تیری کھوج میں ایسے نکلیں

خود ہی اپنا رستہ، منزل اور سفر ہو جائیں


حیدر قریشی

No comments:

Post a Comment