اندر کی دنیائیں ملا کے ایک نگر ہو جائیں
یا پھر آؤ مل کر ٹوٹیں اور کھنڈر ہو جائیں
ایک نماز پڑھیں یوں دونوں اور دعا یوں مانگیں
یا سجدے سے سر نہ اٹھے یا لفظ اثر ہو جائیں
خیر اور شر کی کی آمیزش اور آویزش سے نکھریں
بھول اور توبہ کرتے ساری سانسیں بسر ہو جائیں
ہم ازلی آوارہ جن کا گھر ہی نہیں ہے کوئی
لیکن جن رستوں سے گزریں گھر ہو جائیں
صوفی، سادھو بن کر تیری کھوج میں ایسے نکلیں
خود ہی اپنا رستہ، منزل اور سفر ہو جائیں
حیدر قریشی
No comments:
Post a Comment