Tuesday, 19 April 2022

کچھ تو پرجوش بیاں رکھتے ہیں

 کچھ تو پُر جوش بیاں رکھتے ہیں

ہم جو نظروں کی زباں رکھتے ہیں

سامنے گو ہے کھڑی اب پیری

حوصلے پھر بھی جواں رکھتے ہیں

گو خبر ہے کہ کدھر جائیں گے

صدیوں کا پھر یہ گماں رکھتے ہیں

عاشقی اور بھی ہوئی آساں

ہر وفا کا تو دھیاں رکھتے ہیں

سب لگا گھات ہیں بیٹھے جاناں

شاخ در شاخ مچاں رکھتے ہیں

نفرتیں آج بھری ہیں من میں

دھول چہروں پہ کہاں رکھتے ہیں

روگ مشکل ہے سمجھنا امبر

لوگ دل میں جو دکاں رکھتے ہیں


شہباز امبر رانجھا

No comments:

Post a Comment