پانچ لفظ
لفظ کہنے کو پانچ ہیں لیکن
خود میں رکھتے ہیں کتنی رعنائی
جان جاؤ تو ہے یہی سب کچھ
اور نہ سمجھو تو لفظ عام سے ہیں
ان کو کہنے کو حوصلہ درکار
بِن کہے بھی رہا نہیں جاتا
پانچ لفظ
لفظ کہنے کو پانچ ہیں لیکن
خود میں رکھتے ہیں کتنی رعنائی
جان جاؤ تو ہے یہی سب کچھ
اور نہ سمجھو تو لفظ عام سے ہیں
ان کو کہنے کو حوصلہ درکار
بِن کہے بھی رہا نہیں جاتا
پھیل جاتی ہے کو بہ کو آواز
کس کی رکھتی ہے جستجو آواز
شبِ فرقت میں کون ہے ہمسر؟
کاش دیتا کوئی عدو آواز
رازِ عرفاں سے اٹھ گۓ پردے
کون دیتا ہے با وضو آواز
خواہشوں کی دستک
جسم کی فصیلوں کے آہنی دریچوں پر
بے صدا سے رنگوں کی خواہشوں کی دستک ہے
جسم کے حصاروں میں نیم وا دریچوں سے جھانکنے کو نکلا ہوں
گھر کی سخت تاریکی بے زبان سناٹے
ان گنت کتابوں نے مجھ کو روک کر پوچھا
ہم ہیں دوست دیرینہ
یہ جو آہٹیں ہیں اِدھر اُدھر سبھی کُن کا دائمی ساز ہے
وہی جاودانِ جہاں جسے ذرا فہمِ سوز و گداز ہے
ہے جو لاشعور کا آئینہ کبھی کر تو اس کا بھی سامنا
کبھی جان "لا" کا یہ مرحلہ، تِرا عکس عکسِ مجاز ہے
نہ ہو مُنحرف ارے بے خبر کبھی اپنی ذات پہ غور کر
یہ وجودِ خاک ہے لمحہ بھر، یہاں کس کی عُمر دراز ہے
دیکھا نہ مِری آنکھ نے اس خواب سے آگے
ہم تم تھے رواں کوچۂ مہتاب سے آگے
سنتا ہوں کہ اس سمت ہیں پریوں کے ٹھکانے
آؤ تمہیں لے جاؤں میں خنجراب سے آگے
ایسی ہے مِرے جِسم کی مٹی کی عقیدت
جانے ہی نہیں دیتی ہے پنجاب سے آگے