Showing posts with label سجیل قلزم. Show all posts
Showing posts with label سجیل قلزم. Show all posts

Monday, 29 April 2024

تم میری دائمی محبت ہو

 پانچ لفظ


لفظ کہنے کو پانچ ہیں لیکن

خود میں رکھتے ہیں کتنی رعنائی

جان جاؤ تو ہے یہی سب کچھ

اور نہ سمجھو تو لفظ عام سے ہیں

ان کو کہنے کو حوصلہ درکار

بِن کہے بھی رہا نہیں جاتا

Friday, 29 March 2024

پھیل جاتی ہے کو بہ کو آواز

 پھیل جاتی ہے کو بہ کو آواز

کس کی رکھتی ہے جستجو آواز

شبِ فرقت میں کون ہے ہمسر؟

کاش دیتا کوئی عدو آواز

رازِ عرفاں سے اٹھ گۓ پردے

کون دیتا ہے با وضو آواز

Saturday, 13 January 2024

جسم کی فصیلوں کے آہنی دریچوں پر

 خواہشوں کی دستک


جسم کی فصیلوں کے آہنی دریچوں پر

بے صدا سے رنگوں کی خواہشوں کی دستک ہے

جسم کے حصاروں میں نیم وا دریچوں سے جھانکنے کو نکلا ہوں

گھر کی سخت تاریکی بے زبان سناٹے

ان گنت کتابوں نے مجھ کو روک کر پوچھا

ہم ہیں دوست دیرینہ

Wednesday, 10 January 2024

یہ جو آہٹیں ہیں ادھر ادھر سبھی کن کا دائمی ساز ہے

 یہ جو آہٹیں ہیں اِدھر اُدھر سبھی کُن کا دائمی ساز ہے

وہی جاودانِ جہاں جسے ذرا فہمِ سوز و گداز ہے

ہے جو لاشعور کا آئینہ کبھی کر تو اس کا بھی سامنا

کبھی جان "لا" کا یہ مرحلہ، تِرا عکس عکسِ مجاز ہے

نہ ہو مُنحرف ارے بے خبر کبھی اپنی ذات پہ غور کر

یہ وجودِ خاک ہے لمحہ بھر، یہاں کس کی عُمر دراز ہے

Wednesday, 23 February 2022

دیکھا نہ مری آنکھ نے اس خواب سے آگے

 دیکھا نہ مِری آنکھ نے اس خواب سے آگے

ہم تم تھے رواں کوچۂ مہتاب سے آگے

سنتا ہوں کہ اس سمت ہیں پریوں کے ٹھکانے

آؤ تمہیں لے جاؤں میں خنجراب سے آگے

ایسی ہے مِرے جِسم کی مٹی کی عقیدت

جانے ہی نہیں دیتی ہے پنجاب سے آگے