Wednesday, 10 January 2024

یہ جو آہٹیں ہیں ادھر ادھر سبھی کن کا دائمی ساز ہے

 یہ جو آہٹیں ہیں اِدھر اُدھر سبھی کُن کا دائمی ساز ہے

وہی جاودانِ جہاں جسے ذرا فہمِ سوز و گداز ہے

ہے جو لاشعور کا آئینہ کبھی کر تو اس کا بھی سامنا

کبھی جان "لا" کا یہ مرحلہ، تِرا عکس عکسِ مجاز ہے

نہ ہو مُنحرف ارے بے خبر کبھی اپنی ذات پہ غور کر

یہ وجودِ خاک ہے لمحہ بھر، یہاں کس کی عُمر دراز ہے

یونہی دربدر کی صعوبتیں تِری اپنی سوچ کی ظُلمتیں

اسی در پہ کھول یہ کلفتیں، جو ازل سے بندہ نواز ہے

یہاں ہر بشر ہے تماش بیں، کوئی نکتہ داں کوئی نکتہ چیں

جو خلوصِ دل سے ہو کچھ قریں، تِرا ہر عمل وہ نماز ہے

یہ سجیل! زیست کا مرحلہ ہے تغیّرات کے زاویہ

تھا جو خط کبھی ہُوا دائرہ، جو نشیب تھا وہ فراز ہے


سجیل قلزم

No comments:

Post a Comment