Wednesday, 10 January 2024

جگنو کو رکھ کے ہاتھ پہ در در پھرا ہوں میں

 جگنو کو رکھ کے ہاتھ پہ در در پِھرا ہوں میں

یہ کس کی آرزو ہے کہ شب بھر پھرا ہوں میں

یوں تو اندھیری رات میں اکثر پھرا ہوں میں

آنکھوں میں لےکے صبح کا منظر پھرا ہوں میں

تھوڑی سی پیاس سُوکھے لبوں پر لیے ہوئے

وقتِ ازل سے گِرد سمندر پھرا ہوں میں

پُرکھوں کی پارسائی میرے کام آ گئی

میخانے کے قریب پہونچ کر پھرا ہوں میں

اس طرح ٹھوکروں میں گُزاری حیات نو

بن کے تمہاری راہ کا پتھر پھرا ہوں میں

تنہا کسی مقام سے گُزرا نہیں کبھی

ہمراہ لےکے یادوں کے لشکر پھرا ہوں میں

انجم بس اتنا سوچ کے لب میں نے سی لیے

شاید کہ کائنات میں اک سر پھرا ہوں میں


انجم لکھنوی

No comments:

Post a Comment