سوئے ہوؤں کو پھر سے جگانے کی ٹھان لی
پھر اس نگر کو ہم نے بسانے کی ٹھان لی
نفرت کے بیج آپ نے بوئے تو کیا ہُوا
اُلفت کے پُھول ہم نے کِھلانے کی ٹھان لی
ناراض ہو گئے ہیں وہ چھوٹی سی بات پر
اس بار ہم نے بھی نہ منانے کی ٹھان لی
فرعونیت کا راج تو قائم ہے آج بھی
لختِ جگر کو ماں نے بہانے کی ٹھان لی
تفریق ڈالنا گو ہے شیوہ جناب کا
بچھڑے ہوؤں کو ہم نے منانے کی ٹھان لی
ہر کوئی مُضطرب تھا اُجالا ہو کس طرح
اپنے ہی گھر کو آگ لگانے کی ٹھان لی
صابر! جہاں میں ظُلم کا مانا کہ راج ہے
ہم نے بھی تختِ شاہی گِرانے کی ٹھان لی
فاروق صابر
No comments:
Post a Comment