Showing posts with label نعیم سرمد. Show all posts
Showing posts with label نعیم سرمد. Show all posts

Wednesday, 9 September 2026

صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن

 صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن

صدقے والليل کے شانوں پہ بکھرتی ہوئی شام

میلی اس درجہ ہوئی تین ہی پہروں میں کہ بس

شب سے پہنی نہ گئی دن کی اتاری ہوئی شام

سُرمئی جسم کے اک ہجر کے مارے ہوئے چاند

اور اسی جسم کے اک لمس پہ واری ہوئی شام

Saturday, 14 March 2026

مجھ میں میری ذات بھی رکھی ہوئی ہے دوست

 مجھ میں میری ذات بھی رکھی ہوئی ہے دوست

چھوڑ یہ بات تو اور بھی الجھی ہوئی ہے دوست

ہم لوگوں کو پانی اچھا لگتا ہے

ہم لوگوں نے مٹی پہنی ہوئی ہے دوست

کتنا سج دھج کر محفل میں آیا ہوں

میری وحشت گھر پر رکھی ہوئی ہے دوست

Thursday, 9 January 2025

تمہارے چہرے پہ دھیان ایسے ٹکا ہوا ہے

 تمہارے چہرے پہ دھیان ایسے ٹکا ہوا ہے 

تمام سمتوں کو ایک جانب رکھا ہوا ہے 

ہرے درختوں سے بیلیں کیسے لپٹ رہی ہیں 

زمین پر آسمان کیسے جھکا ہوا ہے 

وہ ایک لڑکی جو مر رہی ہے حیا کے مارے 

وہ ایک لڑکا جو دیکھنے پر تلا ہوا ہے 

Thursday, 5 December 2024

خدا سے بھی کب کوئی فرقت کٹی ہے

 خدا سے بھی کب کوئی فرقت کٹی ہے

شب ہجر شب سے بھی پہلے بنی ہے

میں اک خواب ہوں تیرا دیکھا ہوا ہوں

تُو اک نیند ہے مجھ میں سوئی پڑی ہے

ہوس تو نہیں ہے مگر یہ تھی سچ ہے

مجھے تجھ بدن کی تمنا رہی ہے

Monday, 8 November 2021

اک ترے وصل کے لیے مولا

اک ترے وصل کے لیے مولا

ہجر کاٹے ہیں ان گنے مولا

اک ثنا خواں تھا محو حمد یار

اور ہم ناچتے رہے مولا

میں جنہیں دل پہ کھائے پھرتا ہوں

تِرے حصے کے رنج تھے مولا