صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن
صدقے والليل کے شانوں پہ بکھرتی ہوئی شام
میلی اس درجہ ہوئی تین ہی پہروں میں کہ بس
شب سے پہنی نہ گئی دن کی اتاری ہوئی شام
سُرمئی جسم کے اک ہجر کے مارے ہوئے چاند
اور اسی جسم کے اک لمس پہ واری ہوئی شام
صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن
صدقے والليل کے شانوں پہ بکھرتی ہوئی شام
میلی اس درجہ ہوئی تین ہی پہروں میں کہ بس
شب سے پہنی نہ گئی دن کی اتاری ہوئی شام
سُرمئی جسم کے اک ہجر کے مارے ہوئے چاند
اور اسی جسم کے اک لمس پہ واری ہوئی شام
مجھ میں میری ذات بھی رکھی ہوئی ہے دوست
چھوڑ یہ بات تو اور بھی الجھی ہوئی ہے دوست
ہم لوگوں کو پانی اچھا لگتا ہے
ہم لوگوں نے مٹی پہنی ہوئی ہے دوست
کتنا سج دھج کر محفل میں آیا ہوں
میری وحشت گھر پر رکھی ہوئی ہے دوست
تمہارے چہرے پہ دھیان ایسے ٹکا ہوا ہے
تمام سمتوں کو ایک جانب رکھا ہوا ہے
ہرے درختوں سے بیلیں کیسے لپٹ رہی ہیں
زمین پر آسمان کیسے جھکا ہوا ہے
وہ ایک لڑکی جو مر رہی ہے حیا کے مارے
وہ ایک لڑکا جو دیکھنے پر تلا ہوا ہے
خدا سے بھی کب کوئی فرقت کٹی ہے
شب ہجر شب سے بھی پہلے بنی ہے
میں اک خواب ہوں تیرا دیکھا ہوا ہوں
تُو اک نیند ہے مجھ میں سوئی پڑی ہے
ہوس تو نہیں ہے مگر یہ تھی سچ ہے
مجھے تجھ بدن کی تمنا رہی ہے
اک ترے وصل کے لیے مولا
ہجر کاٹے ہیں ان گنے مولا
اک ثنا خواں تھا محو حمد یار
اور ہم ناچتے رہے مولا
میں جنہیں دل پہ کھائے پھرتا ہوں
تِرے حصے کے رنج تھے مولا