Monday, 8 November 2021

اک ترے وصل کے لیے مولا

اک ترے وصل کے لیے مولا

ہجر کاٹے ہیں ان گنے مولا

اک ثنا خواں تھا محو حمد یار

اور ہم ناچتے رہے مولا

میں جنہیں دل پہ کھائے پھرتا ہوں

تِرے حصے کے رنج تھے مولا

وہ جو تجھ سے اٹھے تھے وہ پردے

میری ہستی پہ پڑ گئے مولا

صورت لا میں تیری صورت کو

ہم نے دیکھا تو ہم ہی تھے مولا

تجھ کو رو رو منایا کرتے تھے

تجھ سے کیسے نہ روٹھتے مولا

تیرے بندے بہت کمینے ہیں

حوصلے پست ہو گئے مولا


نعیم سرمد

No comments:

Post a Comment