دل ہے مگر کسی سے عداوت نہیں رہی
دنیا وہی ہے، ہم کو شکایت نہیں رہی
میں جانتا ہوں دہر میں اس قوم کا مآل
علم و ہنر سے جس کو محبت نہیں رہی
خوفِ خدا کے بعد پھر اک چیز تھی حیا
وہ بھی دل و نگاہ کی زینت نہیں رہی
دل ہے مگر کسی سے عداوت نہیں رہی
دنیا وہی ہے، ہم کو شکایت نہیں رہی
میں جانتا ہوں دہر میں اس قوم کا مآل
علم و ہنر سے جس کو محبت نہیں رہی
خوفِ خدا کے بعد پھر اک چیز تھی حیا
وہ بھی دل و نگاہ کی زینت نہیں رہی
ماں
اس کی ہستی وجود کا محور
اس کی آغوش وسعتِ افلاک
اس کی صحبت تھی درد کا درماں
تلخئ غم میں زہر کا تریاق
ظلمتوں کے ہجوم میں تاباں
تِرا وجود نظر کی تلاش میں ہے ابھی
یہ خاک اپنے شرر کی تلاش میں ہے ابھی
پہنچ ہی جائے گا منزل پہ کارواں اپنا
اگرچہ رختِ سفر کی تلاش میں ہے ابھی
افق سے ڈھونڈ کے لائی تھی آرزو جس کو
وہ آفتاب سحر کی تلاش میں ہے ابھی
سنے تو گرمِ سفر ہو نہ آسماں کے لیے
مِرے گلو میں وہ نغمہ ہے سارباں کے لیے
سوادِ زہرہ و مریخ میں حیات کہاں؟
یہ سنگ و خِشت ہیں اگلے کسی جہاں کے لیے
اگرچہ سینۂ آدم میں ہے مقام اس کا
تڑپ رہی ہے مگر اپنے آشیاں کے لیے
ہم ان کو بھلا دیں، یہ ارادہ بھی نہیں تھا
رنج ان سے کبھی اتنا زیادہ بھی نہیں تھا
شاطر کے اشاروں ہی پہ چلتا رہا، لیکن
بے گانۂ احوال پیادہ بھی نہیں تھا
وہ لوگ بھی کیا تھے کہ وہاں نغمہ سرا تھے
جس شہر میں ایک آدمی زادہ بھی نہیں تھا
ہر لب پہ ہے غیروں کی عداوت کی کہانی
اِس عہد کو سمجھے ہیں اعالی نہ ادانی
یہ علم کی آفت ہے ، خدا اس سے بچائے
ہر دور کے ملاؤں کا زعم ہمہ دانی
رہتی ہے کہاں اُس سے مروت کی توقع
مر جاتا ہے انسان کی جب آنکھ کا پانی
کیا کیا ہوئی ہے ہم پہ عنایت کبھی کبھی
آئی ہے جب حضور کی ساعت کبھی کبھی
محفل میں اہتزاز کا ساماں بہت سہی
ملتی ہے قلب و روح کو لذت کبھی کبھی
گر کر اٹھے تو جادہ و منزل تھے سامنے
کھلتی ہے یوں بھی راہِ ہدایت کبھی کبھی
اٹھ کہ یہ سلسلۂ شام و سحر تازہ کریں
عالمِ نو ہے ترے قلب و نظر تازہ کریں
اس زمانے کو بھی دیں اور زمانہ کوئی
پھر اٹھیں ولولۂ علم و ہنر تازہ کریں
تیری تدبیر سے نومید ہوئی ہے فطرت
راستے اور بھی ہیں رختِ سفر تازہ کریں