Showing posts with label جاوید احمد غامدی​. Show all posts
Showing posts with label جاوید احمد غامدی​. Show all posts

Thursday, 14 October 2021

دل ہے مگر کسی سے عداوت نہیں رہی

 دل ہے مگر کسی سے عداوت نہیں رہی

دنیا وہی ہے، ہم کو شکایت نہیں رہی

میں جانتا ہوں دہر میں اس قوم کا مآل

علم و ہنر سے جس کو محبت نہیں رہی

خوفِ خدا کے بعد پھر اک چیز تھی حیا

وہ بھی دل و نگاہ کی زینت نہیں رہی

Wednesday, 13 October 2021

ماں اس کی ہستی وجود کا محور

 ماں


اس کی ہستی وجود کا محور

اس کی آغوش وسعتِ افلاک

اس کی صحبت تھی درد کا درماں

تلخئ غم میں زہر کا تریاق

ظلمتوں کے ہجوم میں تاباں

Monday, 11 October 2021

ترا وجود نظر کی تلاش میں ہے ابھی

 تِرا وجود نظر کی تلاش میں ہے ابھی

یہ خاک اپنے شرر کی تلاش میں ہے ابھی

پہنچ ہی جائے گا منزل پہ کارواں اپنا

اگرچہ رختِ سفر کی تلاش میں ہے ابھی

افق سے ڈھونڈ کے لائی تھی آرزو جس کو

وہ آفتاب سحر کی تلاش میں ہے ابھی

Wednesday, 6 October 2021

سنے تو گرم سفر ہو نہ آسماں کے لیے

 سنے تو گرمِ سفر ہو نہ آسماں کے لیے

مِرے گلو میں وہ نغمہ ہے سارباں کے لیے

سوادِ زہرہ و مریخ میں حیات کہاں؟

یہ سنگ و خِشت ہیں اگلے کسی جہاں کے لیے

اگرچہ سینۂ آدم میں ہے مقام اس کا

تڑپ رہی ہے مگر اپنے آشیاں کے لیے

Tuesday, 5 October 2021

ہم ان کو بھلا دیں، یہ ارادہ بھی نہیں تھا

 ہم ان کو بھلا دیں، یہ ارادہ بھی نہیں تھا

رنج ان سے کبھی اتنا زیادہ بھی نہیں تھا

شاطر کے اشاروں ہی پہ چلتا رہا، لیکن

بے گانۂ احوال پیادہ بھی نہیں تھا

وہ لوگ بھی کیا تھے کہ وہاں نغمہ سرا تھے

جس شہر میں ایک آدمی زادہ بھی نہیں تھا

Monday, 4 October 2021

ہر لب پہ ہے غیروں کی عداوت کی کہانی

 ہر لب پہ ہے غیروں کی عداوت کی کہانی

اِس عہد کو سمجھے ہیں اعالی نہ ادانی

یہ علم کی آفت ہے ، خدا اس سے بچائے

ہر دور کے ملاؤں کا زعم ہمہ دانی

رہتی ہے کہاں اُس سے مروت کی توقع

مر جاتا ہے انسان کی جب آنکھ کا پانی

Tuesday, 12 January 2021

کیا کیا ہوئی ہے ہم پہ عنایت کبھی کبھی

 کیا کیا ہوئی ہے ہم پہ عنایت کبھی کبھی

آئی ہے جب حضور کی ساعت کبھی کبھی

محفل میں اہتزاز کا ساماں بہت سہی

ملتی ہے قلب و روح کو لذت کبھی کبھی

گر کر اٹھے تو جادہ و منزل تھے سامنے

کھلتی ہے یوں بھی راہِ ہدایت کبھی کبھی

Friday, 13 November 2020

اٹھ کہ یہ سلسلۂ شام و سحر تازہ کریں

 اٹھ کہ یہ سلسلۂ شام و سحر تازہ کریں

عالمِ نو ہے ترے قلب و نظر تازہ کریں

اس زمانے کو بھی دیں اور زمانہ کوئی

پھر اٹھیں ولولۂ علم و ہنر تازہ کریں

تیری تدبیر سے نومید ہوئی ہے فطرت

راستے اور بھی ہیں رختِ سفر تازہ کریں