Monday, 11 October 2021

ترا وجود نظر کی تلاش میں ہے ابھی

 تِرا وجود نظر کی تلاش میں ہے ابھی

یہ خاک اپنے شرر کی تلاش میں ہے ابھی

پہنچ ہی جائے گا منزل پہ کارواں اپنا

اگرچہ رختِ سفر کی تلاش میں ہے ابھی

افق سے ڈھونڈ کے لائی تھی آرزو جس کو

وہ آفتاب سحر کی تلاش میں ہے ابھی

تِری نوا میں کمالِ ہنر تو ہے، پھر بھی

ذرا سے خونِ جگر کی تلاش میں ہے ابھی

سمجھ ہی لے گا حقیقت سے آشنا ہو کر

زمانہ فوقِ بشر کی تلاش میں ہے ابھی

حضورِ عشق میں آئی تو ہے خِرد، لیکن

وہاں بھی نفع و ضرر کی تلاش میں ہے ابھی

مِرا غزال سوادِ ختن میں آ پہنچا

سنا ہے اپنے ہی گھر کی تلاش میں ہے ابھی​


جاوید احمد غامدی​

No comments:

Post a Comment