Sunday, 10 October 2021

صرف حرص و ہوا کے ہوتے ہیں

 صرف حرص و ہوا کے ہوتے ہیں

بندے کم ہی خدا کے ہوتے ہیں

چند لمحوں کی زندگانی میں

جھگڑے لاکھوں انا کے ہوتے ہیں

کاش، انسان کو سمجھ آئے

اصل حیلے فنا کے ہوتے ہیں

عجز و اخلاص کی ضرورت ہے

“وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں”

ماں، بہن بیٹیوں کی چاہت میں

رنگ صدق و صفا کے ہوتے ہیں

میری خاموشیوں کو سمجھو تو

کچھ تقاضے حیا کے ہوتے ہیں

جو سدا مسکراتے رہتے ہیں

ان کے صدمے بلا کے ہوتے ہیں


ناز ہاشمی

ایس ناز

No comments:

Post a Comment