جو نصیبوں کا لکھا ہے وہ مٹا کیوں نہیں دیتے
گلشنِ دل میں نئے پھول کھلا کیوں نہیں دیتے
کب ہے مانگی میں نے تم سے کوئی نعمتِ دنیا
دینے والے ہو تو مجھ کو خدا کیوں نہیں دیتے
ہم تم سے کب پوچھ رہے ہیں اسی دنیا کا
اپنے دل کی کوئی بات سنا کیوں نہیں دیتے
سمجھ رہا ہے وہ کہ کوئی قيمتی شے ہے
زخم دل کے اسے یار دکھا کیوں نہیں دیتے
تم ہو دریا پھر تم کو یہ مشکل کیا ہے
ہونٹوں کی میرے پیاس بجھا کیوں نہیں دیتے
مل جائے گا سکوں تھوڑی سی تکلیف تو ہو گی
آرزوئے دل کو فقط آگ لگا کیوں نہیں دیتے
رب سے عثماں کا بس یہی ایک گلہ ہے
مجھ کو الله جی میرا یار ملا کیوں نہیں دیتے
عثمان انیس
No comments:
Post a Comment