Sunday, 10 October 2021

نخچیر ہوں میں کشمکش فکر و نظر کا

 نخچیر ہوں میں کشمکشِ فکر و نظر کا

حق مجھ سے ادا ہو نہ در و بست ہنر کا

مغرب مجھے کھینچے ہے تو روکے مجھے مشرق

دھوبی کا وہ کتا ہوں کہ جو گھاٹ نہ گھر کا

دبتا ہوں کسی سے نہ دباتا ہوں کسی کو

قائل ہوں مساواتِ بنی نوعِ بشر کا

ہر چیز کی ہوتی ہےکوئی آخری حد بھی

کیا کوئی بگاڑے گا کسی خاک بہ سر کا

کیا شغل شجرکار ہے افکار سے بہتر

سودا سر شوریدہ میں گر ہو نہ ثمر کا

کیوں سر خوش رفتار نہ ہو قافلۂ موج

رہزن کا ہے اندیشہ نہ غم زادِ سفر کا

ڈالی ہے ستاروں پہ کمند اہلِ زمیں نے

زہرہ کا وہ افسوں نہ فسانہ وہ قمر کا

ہر بات ہے خالد کی زمانے سے نرالی 

باشندہ ہے شاید کسی دنیائے دگر کا


عبدالعزیز خالد

No comments:

Post a Comment