Showing posts with label ظہیر عالم. Show all posts
Showing posts with label ظہیر عالم. Show all posts

Friday, 9 February 2024

یہ اپنے اصولوں سے بغاوت نہیں کرتے

 یہ اپنے اصولوں سے بغاوت نہیں کرتے

بنجارے کسی سے کبھی نفرت نہیں کرتے

اپنوں سے بھی اظہار ضرورت نہیں کرتے

یہ کام کبھی صاحب غیرت نہیں کرتے

یہ اہل ہوس کرتے ہیں بیوہ پہ نوازش

مقتول کے بچوں سے محبت نہیں کرتے

Tuesday, 30 January 2024

احساس گناہوں کا میرے پیچھے پڑا ہے

 احساس گُناہوں کا میرے پیچھے پڑا ہے

دن رات جو دِیمک کی طرح چاٹ رہا ہے

انسان کبھی جُرم پہ آمادہ نہ ہو گا

گر اتنا سمجھ لے کہ کوئی دیکھ رہا ہے

کچھ لوگ اسی بات پہ ناراض ہیں مجھ سے

شہرت کی بلندی پہ میرا نام لکھا ہے

Sunday, 12 February 2023

آ گیا تو خاطر مہمان کر

آ گیا تو خاطرِ مہمان کر

جو بھی ہے وہ زیبِ دسترخوان کر

خُود غرض دُنیا کو اپنا مان کر

آخرت کا اپنی مت نقصان کر

عُمر بھر گِنتا رہا لوگوں کے عیب

کیا مِلا چھلنی سے پانی چھان کر

Thursday, 5 January 2023

حادثے پر کتر گئے شاید

حادثے پر کتر گئے شاید

حوصلے دل کے مر گئے شاید

خُود میں ڈُوبے تو یُوں ہُوا محسوس

ہم کنوئیں میں اُتر گئے شاید

سخت لہجے میں گُفتگو ہم سے

دن تمہارے بھی بھر گئے شاید