یہ اپنے اصولوں سے بغاوت نہیں کرتے
بنجارے کسی سے کبھی نفرت نہیں کرتے
اپنوں سے بھی اظہار ضرورت نہیں کرتے
یہ کام کبھی صاحب غیرت نہیں کرتے
یہ اہل ہوس کرتے ہیں بیوہ پہ نوازش
مقتول کے بچوں سے محبت نہیں کرتے
یہ اپنے اصولوں سے بغاوت نہیں کرتے
بنجارے کسی سے کبھی نفرت نہیں کرتے
اپنوں سے بھی اظہار ضرورت نہیں کرتے
یہ کام کبھی صاحب غیرت نہیں کرتے
یہ اہل ہوس کرتے ہیں بیوہ پہ نوازش
مقتول کے بچوں سے محبت نہیں کرتے
احساس گُناہوں کا میرے پیچھے پڑا ہے
دن رات جو دِیمک کی طرح چاٹ رہا ہے
انسان کبھی جُرم پہ آمادہ نہ ہو گا
گر اتنا سمجھ لے کہ کوئی دیکھ رہا ہے
کچھ لوگ اسی بات پہ ناراض ہیں مجھ سے
شہرت کی بلندی پہ میرا نام لکھا ہے
آ گیا تو خاطرِ مہمان کر
جو بھی ہے وہ زیبِ دسترخوان کر
خُود غرض دُنیا کو اپنا مان کر
آخرت کا اپنی مت نقصان کر
عُمر بھر گِنتا رہا لوگوں کے عیب
کیا مِلا چھلنی سے پانی چھان کر
حادثے پر کتر گئے شاید
حوصلے دل کے مر گئے شاید
خُود میں ڈُوبے تو یُوں ہُوا محسوس
ہم کنوئیں میں اُتر گئے شاید
سخت لہجے میں گُفتگو ہم سے
دن تمہارے بھی بھر گئے شاید