Showing posts with label حافظ الماس. Show all posts
Showing posts with label حافظ الماس. Show all posts

Tuesday, 1 March 2022

قافلہ اب جو بے اماں ہے میاں

 قافلہ اب جو بے اماں ہے میاں

ہر کوئی میرِ کارواں ہے میاں

جس کا سیدھا نہیں تلفظ بھی

وہ بھی پائے کا نکتہ داں ہے میاں

دل محبت میں جل گیا کب کا

یہ جو اٹھتا ہے بس دھواں ہے میاں

Monday, 10 January 2022

سنو گڑیا محبت روگ ہوتی ہے

 محبت روگ ہوتی ہے


سنو گڑیا

بہت نازک سی اک لڑکی

محبت روگ ہوتی ہے

ابھی تم نے درختوں سے

پرندوں کی کوئی ہجرت نہیں دیکھی

Thursday, 24 December 2020

ہے محبت تو میاں ذات کو مت دیکھا کر

 ہے محبت تو میاں ذات کو مت دیکھا کر

ہم تباہ حالوں کی اوقات کو مت دیکھا کر

تُو اگر خوش ہے، تو دل توڑ دیا کر میرا

تُو مرے درد کو، صدمات کو مت دیکھا کر

مجھ سے دیکھی نہیں جاتی یہ تری دلگیری

اے نجومی! تُو مرے ہاتھ کو مت دیکھا کر

جو ترے شہر میں آیا ہے اسے راضی کر

 جو ترے شہر میں آیا ہے اُسے راضی کر

جس نے کشکول اٹھایا ہے اسے راضی کر

جو تری بزم سے جاتا ہے اسے جانے دے

جو تری بزم میں آیا ہے اسے راضی کر

تجھ پہ جادو ہے، نہ آسیب، نہ سایہ کوئی

جس گداگر کو رلایا ہے اسے راضی کر

Wednesday, 23 December 2020

محبتوں میں گرفتار کر کے چھوڑے گا

 محبتوں میں گرفتار کر کے چھوڑے گا

مجھے وہ اپنا پرستار کر کے چھوڑے گا 

گلے لگائے گا ہنس کر یہ اس کی فطرت ہے

پھر اپنے ہجر میں بیمار کر کے چھوڑے گا

سجا کے پھرتا ہے کاجل حسین آنکھوں میں

جگر سے تیر نیا پار کر کےچھوڑے گا