قافلہ اب جو بے اماں ہے میاں
ہر کوئی میرِ کارواں ہے میاں
جس کا سیدھا نہیں تلفظ بھی
وہ بھی پائے کا نکتہ داں ہے میاں
دل محبت میں جل گیا کب کا
یہ جو اٹھتا ہے بس دھواں ہے میاں
قافلہ اب جو بے اماں ہے میاں
ہر کوئی میرِ کارواں ہے میاں
جس کا سیدھا نہیں تلفظ بھی
وہ بھی پائے کا نکتہ داں ہے میاں
دل محبت میں جل گیا کب کا
یہ جو اٹھتا ہے بس دھواں ہے میاں
محبت روگ ہوتی ہے
سنو گڑیا
بہت نازک سی اک لڑکی
محبت روگ ہوتی ہے
ابھی تم نے درختوں سے
پرندوں کی کوئی ہجرت نہیں دیکھی
ہے محبت تو میاں ذات کو مت دیکھا کر
ہم تباہ حالوں کی اوقات کو مت دیکھا کر
تُو اگر خوش ہے، تو دل توڑ دیا کر میرا
تُو مرے درد کو، صدمات کو مت دیکھا کر
مجھ سے دیکھی نہیں جاتی یہ تری دلگیری
اے نجومی! تُو مرے ہاتھ کو مت دیکھا کر
جو ترے شہر میں آیا ہے اُسے راضی کر
جس نے کشکول اٹھایا ہے اسے راضی کر
جو تری بزم سے جاتا ہے اسے جانے دے
جو تری بزم میں آیا ہے اسے راضی کر
تجھ پہ جادو ہے، نہ آسیب، نہ سایہ کوئی
جس گداگر کو رلایا ہے اسے راضی کر
محبتوں میں گرفتار کر کے چھوڑے گا
مجھے وہ اپنا پرستار کر کے چھوڑے گا
گلے لگائے گا ہنس کر یہ اس کی فطرت ہے
پھر اپنے ہجر میں بیمار کر کے چھوڑے گا
سجا کے پھرتا ہے کاجل حسین آنکھوں میں
جگر سے تیر نیا پار کر کےچھوڑے گا