تھکن سے چُور بے کنار سو گئی
ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی
اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر
یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی
لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی
وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی
جو بول اُٹھی وہ بد گُمان خاموشی
تو حرف حرف سُوئیاں چبھو گئی
تنی ہوئی تھیں ڈوریاں خیال کی
وہ جن پہ اوس آئینے پِرو گئی
نصراللہ حارث
No comments:
Post a Comment