Showing posts with label احتشام حسین. Show all posts
Showing posts with label احتشام حسین. Show all posts

Wednesday, 6 May 2026

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

 عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بُت خانے تک

وادئ شب میں اُجالوں کا گزر ہو کیسے

دل جلائے رہو پیغامِ سحر آنے تک

یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر

ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک

Sunday, 8 August 2021

بدل کے بھیس وہ چہرا کہاں کہاں نہ ملا

 بدل کے بھیس وہ چہرہ کہاں کہاں نہ ملا

تلاش جس کی تھی وہ حسنِ جاوداں نہ ملا

کھڑا ہوں کب سے سرِ رہگزارِ وقت ندیم

میں جس کے ساتھ چلوں ایسا کارواں نہ ملا

خزاں گزر گئی لیکن گُلوں کے رنگ ہیں زرد

بہار کو صلۂ خون کشتگاں نہ ملا

Thursday, 20 May 2021

گیا تھا بزم محبت میں خالی جام لیے

 گیا تھا بزم محبت میں خالی جام لیے

کٹی ہے عمر گدائی کا اتہام لیے

کہیں ہوئے بھی جو روشن محبتوں کے چراغ

ہوائیں دوڑ پڑیں وحشتوں کے دام لیے

طلسم راز نہ کھل جائے تنگ بینوں پر

تمہارے نام سے پہلے ہزار نام لیے

Wednesday, 19 May 2021

کچھ مرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسے

 کچھ مِرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسے

آج تم اور ہی تصویر حیا ہو جیسے

یوں گزرتا ہے تِری یاد کی وادی میں خیال

خارزاروں میں کوئی برہنہ پا ہو جیسے

ساز نفرت کے ترانوں سے بہلتے نہیں کیوں

یہ بھی کچھ اہلِ محبت کی خطا ہو جیسے

Saturday, 15 May 2021

غم میں اک موج سر خوشی کی ہے

 غم میں اک موج سرخوشی کی ہے

ابتدا سی خود آگہی کی ہے

کسے سمجھائیں کون مانے گا

جیسے مر مر کے زندگی کی ہے

بجھیں شمعیں تو دل جلائے ہیں

یوں اندھیروں میں روشنی کی ہے

Friday, 14 May 2021

رسم ہی شہر تمنا سے وفا کی اٹھ جائے

 رسم ہی شہر تمنا سے وفا کی اٹھ جائے

اس طرح تو نہ کوئی اہلِ محبت کو ستائے

وادئ دل میں کئی راتوں سے سناٹا ہے

کاش بجلی ہی تِرے ابر ستم سے گر جائے

اپنی ذلت کی صلیب آپ لیے پھرنا ہے

یہ بڑا بوجھ محبت کے سوا کون اٹھائے

Tuesday, 11 May 2021

محفل دوست میں گو سینہ فگار آئے ہیں

 محفل دوست میں گو سینہ فگار آئے ہیں

صورت‌ِ نغمہ بہ اندازۂ بہار آئے ہیں

اس نظر سے کہ تِرے ظلم کی تشہیر نہ ہو

بے قراری میں لیے دل کا قرار آئے ہیں

ایک پندار خودی جس کو بچا رکھا تھا

آج ہم وہ بھی تِری بزم میں ہار آئے ہیں

Monday, 10 May 2021

کیوں یورش طرب میں بھی غم یاد آ گئے

کیوں یورش طرب میں بھی غم یاد آ گئے

سوچا تِرے کرم کو، ستم یاد آ گئے

اے دوست میکدے میں یہ کیسی ہوا چلی

سب فتنہ ہائے دیر و حرم یاد آ گئے

روشن ابھی ہوا تھا سر جادۂ حیات

اک کاکلِ سیاہ کے خم یاد آ گئے