عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک
ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بُت خانے تک
وادئ شب میں اُجالوں کا گزر ہو کیسے
دل جلائے رہو پیغامِ سحر آنے تک
یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر
ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک
عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک
ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بُت خانے تک
وادئ شب میں اُجالوں کا گزر ہو کیسے
دل جلائے رہو پیغامِ سحر آنے تک
یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر
ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک
بدل کے بھیس وہ چہرہ کہاں کہاں نہ ملا
تلاش جس کی تھی وہ حسنِ جاوداں نہ ملا
کھڑا ہوں کب سے سرِ رہگزارِ وقت ندیم
میں جس کے ساتھ چلوں ایسا کارواں نہ ملا
خزاں گزر گئی لیکن گُلوں کے رنگ ہیں زرد
بہار کو صلۂ خون کشتگاں نہ ملا
گیا تھا بزم محبت میں خالی جام لیے
کٹی ہے عمر گدائی کا اتہام لیے
کہیں ہوئے بھی جو روشن محبتوں کے چراغ
ہوائیں دوڑ پڑیں وحشتوں کے دام لیے
طلسم راز نہ کھل جائے تنگ بینوں پر
تمہارے نام سے پہلے ہزار نام لیے
کچھ مِرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسے
آج تم اور ہی تصویر حیا ہو جیسے
یوں گزرتا ہے تِری یاد کی وادی میں خیال
خارزاروں میں کوئی برہنہ پا ہو جیسے
ساز نفرت کے ترانوں سے بہلتے نہیں کیوں
یہ بھی کچھ اہلِ محبت کی خطا ہو جیسے
غم میں اک موج سرخوشی کی ہے
ابتدا سی خود آگہی کی ہے
کسے سمجھائیں کون مانے گا
جیسے مر مر کے زندگی کی ہے
بجھیں شمعیں تو دل جلائے ہیں
یوں اندھیروں میں روشنی کی ہے
رسم ہی شہر تمنا سے وفا کی اٹھ جائے
اس طرح تو نہ کوئی اہلِ محبت کو ستائے
وادئ دل میں کئی راتوں سے سناٹا ہے
کاش بجلی ہی تِرے ابر ستم سے گر جائے
اپنی ذلت کی صلیب آپ لیے پھرنا ہے
یہ بڑا بوجھ محبت کے سوا کون اٹھائے
محفل دوست میں گو سینہ فگار آئے ہیں
صورتِ نغمہ بہ اندازۂ بہار آئے ہیں
اس نظر سے کہ تِرے ظلم کی تشہیر نہ ہو
بے قراری میں لیے دل کا قرار آئے ہیں
ایک پندار خودی جس کو بچا رکھا تھا
آج ہم وہ بھی تِری بزم میں ہار آئے ہیں
کیوں یورش طرب میں بھی غم یاد آ گئے
سوچا تِرے کرم کو، ستم یاد آ گئے
اے دوست میکدے میں یہ کیسی ہوا چلی
سب فتنہ ہائے دیر و حرم یاد آ گئے
روشن ابھی ہوا تھا سر جادۂ حیات
اک کاکلِ سیاہ کے خم یاد آ گئے