Tuesday, 11 May 2021

محفل دوست میں گو سینہ فگار آئے ہیں

 محفل دوست میں گو سینہ فگار آئے ہیں

صورت‌ِ نغمہ بہ اندازۂ بہار آئے ہیں

اس نظر سے کہ تِرے ظلم کی تشہیر نہ ہو

بے قراری میں لیے دل کا قرار آئے ہیں

ایک پندار خودی جس کو بچا رکھا تھا

آج ہم وہ بھی تِری بزم میں ہار آئے ہیں

ظلمت‌ِ شامِ خزاں یاد کرے گی برسوں

ہم جب آئے ہیں گلستاں بہ کنار آئے ہیں

اے رفیقانِ رہِ شوق کہاں ہو بولو؟

ہم تمہیں شہر و بیاباں میں پکار آئے ہیں

ہے پُر آشوب فضا پھر بھی کسی جانب سے

دل کے ویرانے میں پیغام بہار آئے ہیں

غم منزل میں بھٹکتے ہی گزر جاتی ہے

چھوڑ کر جب سے تیری راہگزر آئے ہیں

زندگی روز نئی لگتی ہے دل والوں کو

گرچہ ہر روز وہی لیل و نہار آئے ہیں

دیکھنا لُوٹی گئی کون سی بستی یارو

اُڑ کے دل تک جو کدورت کے غبار آئے ہیں

اپنے انجام سے خوش اپنی وفا پر نازاں

مسکراتے ہوئے ہم جانبِ دار آئے ہیں


احتشام حسین

No comments:

Post a Comment