اپنی تصویر مجھے آپ بنانی ہو گی
میرے فن کار
مجھے خوب تراشا تُو نے
آنکھ نیلم کی
بدن چاندنی کا
یاقوت کے لب
یہ تِرے
ذوق طلب کے بھی ہیں
معیار عجب
پاؤں میں میرے
یہ پازیب
سجا دی تُو نے
نقرئی تار میں آواز منڈھا دی تُو نے
یہ جواہر سے جڑی
قیمتی مُورت میری
اپنے سامانِ تعیش میں لگا دی تُو نے
میں نے مانا
کہ حسیں ہے تِرا شہکار
مگر
تیرے شہکار میں
مجھ جیسی کوئی بات نہیں
تجھ کو نیلم سی
نظر آتی ہیں آنکھیں میری
درد کے ان میں سمندر
نہیں دیکھے تُو نے
تُو نے
جب کی
لب و رُخسار کی خطاطی کی
جو ورق لکھے تھے
دل پر
نہیں دیکھے تُو نے
میرے فنکار
تِرے ذوق
تِرے فن کا کمال
میرے پندار کی قیمت
نہ چُکا پائے گا
تُو نے بُت یا تو تراشے
یا تراشے ہیں خدا
تو بھلا کیا مِری تصویر
بنا پائے گا
تیرے اوراق سے
یہ شکل مٹانی ہو گی
اپنی تصویر
مجھے آپ بنانی ہو گی
ہوش بھی
جرأتِ گُفتار بھی
بینائی بھی
جرأتِ عشق بھی ہے
ضبط کی رعنائی بھی
جتنے جوہر ہیں نمو کے
مِری تعمیر میں ہیں
دیکھ یہ رنگ
جو تازہ مِری تصویر میں ہیں
نسیم سید
No comments:
Post a Comment