Showing posts with label سجاد باقر. Show all posts
Showing posts with label سجاد باقر. Show all posts

Sunday, 24 January 2021

پریت نگر سے پھیری والا میری گلی میں آیا

پریت نگر سے پھیری والا میری گلی میں آیا

چُوڑی، لونگ، انگوٹھی، چَھلّے رنگ برنگے لایا

میں نے پوچھا "اور بھی کچھ ہے؟" بولا "میٹھا سپنا

"جس کو لے کر جیون بھر اُس نام کی مالا جپنا

میں نے کہا، کیا مول ہے اِس کا؟ بولا "اک مُسکان

"تن کی لاج بچاؤ اس سے، رکھو من کی آن

Thursday, 7 January 2021

دل خوں ہوا ہے شوخیٔ رنگ حنا کے ساتھ

 دل خوں ہوا ہے شوخیٔ رنگِ حنا کے ساتھ

ہے معنیٔ بلند بھی طرزِ ادا کے ساتھ

چٹکا جو دل تو مثلِ گلِ تر بکھر گیا

خوشبو صبا کے ساتھ تھی نغمہ صدا کے ساتھ

یہ حال ہے چمن میں کہ اب مثلِ برگِ خشک

آوارہ ایک عمر سے ہیں ہم ہوا کے ساتھ

Sunday, 4 December 2016

گلیاں جھانکیں سڑکیں چھانیں دل کی وحشت کم نہ ہوئی

گلیاں جھانکیں سڑکیں چھانیں دل کی وحشت کم نہ ہوئی
آنکھ سے کتنا لاوا ابلا،۔۔۔ تن کی حدت کم نہ ہوئی
ڈھب سے پیار کیا ہے ہم نے اسکے نام پہ چپ نہ ہوئے
شہر کے عزت داروں میں کچھ اپنی عزت کم نہ ہوئی
من دھن سب قربان کِیا،۔ اب سر کا سودا باقی ہے
ہم تو بکے تھے اونے پونے پیار کی قیمت کم نہ ہوئی

میں ہم نفساں جسم ہوں وہ جاں کی طرح تھا

میں ہم نفساں جسم ہوں وہ جاں کی طرح تھا
میں درد ہوں وہ درد کے عنواں کی طرح تھا
تُو کون تھا کیا تھا کہ برس گزرے پہ اب بھی
محسوس یہ ہوتا ہے رگِ جاں کی طرح تھا
جس کے لیے کانٹا سا چبھا کرتا تھا دل میں
پہلو میں وہ آیا تو گلستاں کی طرح تھا

رات آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

رات
آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں
اپنی گلوگیر آواز میں کہہ رہی ہیں
درختوں کی چنگھاڑ
نیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کا
اونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہے

Thursday, 19 November 2015

ظرف عالی ہوں کہ بھر کر بھی کبھی چھلکا نہیں

ظرفِ عالی ہوں کہ بھر کر بھی کبھی چھلکا نہیں
ہوں وہ دریا جو کناروں پہ کبھی بہتا نہیں
ہوں وہ پیمانہ کہ محفل جس کو ہاتھوں ہاتھ لے
میں وہ نشہ ہوں جو سر چڑھ کر کبھی اترا نہیں
کشتِ ہستی! تُو مجھے پہچان، تیری آس ہوں
میں وہ بادل ہوں جو اب تک ٹوٹ کر برسا نہیں

دنیا دنیا سیر سفر تھی شوق کی راہ تمام ہوئی

دنیا دنیا سیر سفر تھی، شوق کی راہ تمام ہوئی
اُس بستی میں صبح ہوئی تھی، اِس بستی میں شام ہوئی
موسم بدلے، دل کا سورج دکھ کی گھٹا میں ڈوب گیا
پیار کے لیل و نہار نہ پوچھو شام سے پہلے شام ہوئی
درد کی برکھا ٹوٹ کے برسی، پھوٹ بہے پلکوں کے بند
اس بارش میں وضعِ وفا کی ہر کوشش ناکام ہوئی

زہر ان کے ہیں مرے دیکھے ہوئے بھالے ہوئے

زہر ان کے ہیں مِرے دیکھے ہوئے بھالے ہوئے
یہ تو سب اپنے ہیں زیرِ آستیں پالے ہوئے
ان کے بھی موسم ہیں، ان کے بھی نکل آئیں گے ڈنک
بے ضرر سے اب جو بیٹھے ہیں سپر ڈالے ہوئے
بڑھ کے جو منظر دکھاتے تھے کبھی سیلاب کا
گھٹ کے وہ دریا، زمیں پر رینگتے نالے ہوئے

راہوں کے اونچ نیچ ذرا دیکھ بھال کے

راہوں کے اونچ نیچ ذرا دیکھ بھال کے
ہاں راہروِ مراد! قدم رکھ سنبھال کے
فتنوں کو دیکھ، اپنے قدم روک، بیٹھ جا
راتیں یہ آفتنوں کی ہیں، یہ دن وبال کے
لمحوں کی لے پہ گزری ہیں راتیں نشاط کی
کس دُھن میں دن کٹیں گے یہ رنج و ملال کے

Friday, 23 October 2015

ہم راز گرفتاری دل جان گئے ہیں

ہم رازِ گرفتارئ دل جان گئے ہیں
پھر بھی تِری آنکھوں کا کہا مان گئے ہیں
تُو شعلۂ جاں نکہتِ غم صوتِ طلب ہے
ہم جانِ تمنا! تجھے پہچان گئے ہیں
کیا کیا نہ تِرے شوق میں ٹُوٹے ہیں یہاں کفر
کیا کیا نہ تِری راہ میں ایمان گئے ہیں

جرم اظہار تمنا آنکھ کے سر آ گیا

جرم اظہارِ تمنا، آنکھ کے سر آ گیا
چور جو دل میں چھُپا تھا، آج باہر آ گیا
میرے لفظوں میں حرارت میرے لہجے میں مٹھاس
جو کچھ ان آنکھوں میں تھا، میرے لبوں پر آ گیا
جن کی تعبیروں میں تھی اِک عمر کی وارفتگی
پھر نگاہوں میں انہیں خوابوں کا منظر آ گیا

بقدر حوصلہ کوئی کہیں کوئی کہیں تک ہے

بقدرِ حوصلہ کوئی کہیں، کوئی کہیں تک ہے
سفر میں راہ و منزل کا تعین بھی یہیں تک ہے
نہ ہو اِنکار تو اثبات کا پہلو ہی کیوں نکلے
مِرے اِصرار میں طاقت فقط تیری’نہیں‘ تک ہے
اُدھر وہ بات خوشبو کی طرح اُڑتی تھی گلیوں میں
اِدھر میں یہ سمجھتا تھا کہ میرے ہمنشیں تک ہے