Sunday, 4 December 2016

میں ہم نفساں جسم ہوں وہ جاں کی طرح تھا

میں ہم نفساں جسم ہوں وہ جاں کی طرح تھا
میں درد ہوں وہ درد کے عنواں کی طرح تھا
تُو کون تھا کیا تھا کہ برس گزرے پہ اب بھی
محسوس یہ ہوتا ہے رگِ جاں کی طرح تھا
جس کے لیے کانٹا سا چبھا کرتا تھا دل میں
پہلو میں وہ آیا تو گلستاں کی طرح تھا
اک عمر الجھتا رہا دنیا کی ہوا سے
کیا میں بھی تِرے کاکلِ پیچاں کی طرح تھا
اے رات کے اندھیارے میں جاگے ہوئے لمحے
ڈھونڈو اسے وہ خوابِ پریشاں کی طرح تھا
لو حرفِ غزل بن کے نمایاں ہوا باقرؔ
کل رمز صفت معنئ پنہاں کی طرح تھا

سجاد باقر رضوی

No comments:

Post a Comment