Sunday, 4 December 2016

رات آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

رات
آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں
اپنی گلوگیر آواز میں کہہ رہی ہیں
درختوں کی چنگھاڑ
نیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کا
اونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہے

یہ اس ظلم کا استعارہ ہے
جو شہ رگ سے ہابیل کی گرم و تازہ لہو بن کے اُبلا ہے
آندھیوں میں تھا اک شور کرب و بلا
اور میں نے سنا کربلا،۔ کربلا
بند آنکھوں میں وحشت زدہ خواب اترا
صبح اخبار کی سرخیاں بن گیا

سجاد باقر رضوی

No comments:

Post a Comment