عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
رات
آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں
اپنی گلوگیر آواز میں کہہ رہی ہیں
درختوں کی چنگھاڑ
نیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کا
اونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہے
یہ اس ظلم کا استعارہ ہے
جو شہ رگ سے ہابیل کی گرم و تازہ لہو بن کے اُبلا ہے
آندھیوں میں تھا اک شور کرب و بلا
اور میں نے سنا کربلا،۔ کربلا
بند آنکھوں میں وحشت زدہ خواب اترا
صبح اخبار کی سرخیاں بن گیا
آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں
اپنی گلوگیر آواز میں کہہ رہی ہیں
درختوں کی چنگھاڑ
نیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کا
اونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہے
یہ اس ظلم کا استعارہ ہے
جو شہ رگ سے ہابیل کی گرم و تازہ لہو بن کے اُبلا ہے
آندھیوں میں تھا اک شور کرب و بلا
اور میں نے سنا کربلا،۔ کربلا
بند آنکھوں میں وحشت زدہ خواب اترا
صبح اخبار کی سرخیاں بن گیا
سجاد باقر رضوی
No comments:
Post a Comment