Showing posts with label اسلم بارہ بنکوی. Show all posts
Showing posts with label اسلم بارہ بنکوی. Show all posts

Tuesday, 14 July 2026

زندگی بھر مجھ سے وہ برہم رہا

 زندگی بھر مجھ سے وہ برہم رہا

روبرو لیکن مِرا سر خم رہا

میرا دامن آنسوؤں سے نم رہا

دل کے جانے کا نہایت غم رہا

آسماں سے یوں اتر کر آ گئی

گلستاں شرمندۂ شبنم رہا

Monday, 24 November 2025

وفاؤں کے بدلے ستم دیکھتے ہیں

 وفاؤں کے بدلے ستم دیکھتے ہیں

محبت کا اپنی بھرم دیکھتے ہیں

بڑے ان کے جاہ و حشم دیکھتے ہیں

یہ پتھر کے ہم جو صنم دیکھتے ہیں

رخِ یار پر یوں بکھرتی ہیں زلفیں

شب و روز دونوں بہم دیکھتے ہیں

Saturday, 16 August 2025

کس کو دکھلائیں گے وہ ناز و ادا میرے بعد

 کس کو دکھلائیں گے وہ ناز و ادا میرے بعد 

ہو گی کس پر یہ بھلا مشق جفا میرے بعد 

دیکھیے آپ بھی افسردہ رہیں گے اکثر

یار آ جائے گی جب میری وفا میرے بعد

زینت حسن بڑھی خون جگر سے میرے

پھیکا پڑ جائے گا یہ رنگِ حنا میرے بعد

Saturday, 10 February 2024

کر کے الفت یار سے پچھتائیں کیا

کر کے الفت یار سے پچھتائیں کیا 

گردشِ تقدیر سے گھبرائیں کیا

جب نہیں قدر خلوص اہلِ دل

نذر کرنے کے لیے پھر لائیں کیا

جو گزرتی ہے گزر جانے بھی دو

چارہ گر کو حالِ دل بتلائیں کیا