زندگی بھر مجھ سے وہ برہم رہا
روبرو لیکن مِرا سر خم رہا
میرا دامن آنسوؤں سے نم رہا
دل کے جانے کا نہایت غم رہا
آسماں سے یوں اتر کر آ گئی
گلستاں شرمندۂ شبنم رہا
زندگی بھر مجھ سے وہ برہم رہا
روبرو لیکن مِرا سر خم رہا
میرا دامن آنسوؤں سے نم رہا
دل کے جانے کا نہایت غم رہا
آسماں سے یوں اتر کر آ گئی
گلستاں شرمندۂ شبنم رہا
وفاؤں کے بدلے ستم دیکھتے ہیں
محبت کا اپنی بھرم دیکھتے ہیں
بڑے ان کے جاہ و حشم دیکھتے ہیں
یہ پتھر کے ہم جو صنم دیکھتے ہیں
رخِ یار پر یوں بکھرتی ہیں زلفیں
شب و روز دونوں بہم دیکھتے ہیں
کس کو دکھلائیں گے وہ ناز و ادا میرے بعد
ہو گی کس پر یہ بھلا مشق جفا میرے بعد
دیکھیے آپ بھی افسردہ رہیں گے اکثر
یار آ جائے گی جب میری وفا میرے بعد
زینت حسن بڑھی خون جگر سے میرے
پھیکا پڑ جائے گا یہ رنگِ حنا میرے بعد
کر کے الفت یار سے پچھتائیں کیا
گردشِ تقدیر سے گھبرائیں کیا
جب نہیں قدر خلوص اہلِ دل
نذر کرنے کے لیے پھر لائیں کیا
جو گزرتی ہے گزر جانے بھی دو
چارہ گر کو حالِ دل بتلائیں کیا