مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا
سفر میں ہمسفر اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا
شکست فاش کا غم زندگی جینے سے بد تر ہے
جھکانے کی بجائے سر کٹا لیتے تو اچھا تھا
کبھی اشکوں پہ اتنا ضبط بھی اچھا نہیں ہوتا
یہ چشمہ پھر ضرر دے گا بہا لیتے تو اچھا تھا
مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا
سفر میں ہمسفر اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا
شکست فاش کا غم زندگی جینے سے بد تر ہے
جھکانے کی بجائے سر کٹا لیتے تو اچھا تھا
کبھی اشکوں پہ اتنا ضبط بھی اچھا نہیں ہوتا
یہ چشمہ پھر ضرر دے گا بہا لیتے تو اچھا تھا
مقدر نے کہاں کوئی نیا پیغام لکھا ہے
ازل ہی سے ورق پر دل کے تیرا نام لکھا ہے
قدم میں جانب منزل بڑھاؤں کیا کہ قسمت نے
جہاں آغاز لکھا تھا وہیں انجام لکھا ہے
شکایت کیا کروں ساقی سے میں اس کے تغافل کی
مِرے ہونٹوں کے حصے ہی میں خالی جام لکھا ہے
جو نیکی کر کے پھر دریا میں اس کو ڈال جاتا ہے
وہ جب دنیا سے جاتا ہے تو مالا مال جاتا ہے
سنبھل کر ہی قدم رکھنا بیابانِ محبت میں
یہاں سے جو بھی جاتا ہے بڑا بے حال جاتا ہے
کبھی بھوکے پڑوسی کی خبر تو لی نہیں اس نے
مگر کرنے وہ عمرہ اور حج ہر سال جاتا ہے
لیتا ہوں اس کا نام بھی آہ و بکا کے ساتھ
کتنا حسین رشتہ ہے میرا خدا کے ساتھ
اس کی قبولیت میں کوئی شک نہیں رہا
بھیجے ہیں ہم نے اشک بھی اب کے دعا کے ساتھ
بجھتے ہوئے چراغ کو ہاتھوں میں لے لیا
اس بار بازی جیت لی میں نے ہوا کے ساتھ
مِرے دن کی طرح روشن مِری ہر رات ہوتی ہے
دعا ماں کی ہر اک موسم میں میرے ساتھ ہوتی ہے
عجب دستور ہے اک یہ بھی اظہارِ محبت کا
زباں خاموش رہتی ہے نظر سے بات ہوتی ہے
تلاش رزق میں جب بھی کبھی گھر سے نکلتا ہوں
مِرے ہمراہ پیہم گردش حالات ہوتی ہے