Showing posts with label ساحل قادری. Show all posts
Showing posts with label ساحل قادری. Show all posts

Saturday, 12 March 2022

مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا

 مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا

سفر میں ہمسفر اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا

شکست فاش کا غم زندگی جینے سے بد تر ہے

جھکانے کی بجائے سر کٹا لیتے تو اچھا تھا

کبھی اشکوں پہ اتنا ضبط بھی اچھا نہیں ہوتا

یہ چشمہ پھر ضرر دے گا بہا لیتے تو اچھا تھا

Monday, 28 February 2022

مقدر نے کہاں کوئی نیا پیغام لکھا ہے

 مقدر نے کہاں کوئی نیا پیغام لکھا ہے

ازل ہی سے ورق پر دل کے تیرا نام لکھا ہے

قدم میں جانب منزل بڑھاؤں کیا کہ قسمت نے

جہاں آغاز لکھا تھا وہیں انجام لکھا ہے

شکایت کیا کروں ساقی سے میں اس کے تغافل کی

مِرے ہونٹوں کے حصے ہی میں خالی جام لکھا ہے

Wednesday, 12 January 2022

جو نیکی کر کے پھر دریا میں اس کو ڈال جاتا ہے

 جو نیکی کر کے پھر دریا میں اس کو ڈال جاتا ہے

وہ جب دنیا سے جاتا ہے تو مالا مال جاتا ہے

سنبھل کر ہی قدم رکھنا بیابانِ محبت میں

یہاں سے جو بھی جاتا ہے بڑا بے حال جاتا ہے

کبھی بھوکے پڑوسی کی خبر تو لی نہیں اس نے

مگر کرنے وہ عمرہ اور حج ہر سال جاتا ہے

Tuesday, 11 January 2022

لیتا ہوں اس کا نام بھی آہ و بکا کے ساتھ

 لیتا ہوں اس کا نام بھی آہ و بکا کے ساتھ

کتنا حسین رشتہ ہے میرا خدا کے ساتھ

اس کی قبولیت میں کوئی شک نہیں رہا

بھیجے ہیں ہم نے اشک بھی اب کے دعا کے ساتھ

بجھتے ہوئے چراغ کو ہاتھوں میں لے لیا

اس بار بازی جیت لی میں نے ہوا کے ساتھ

Monday, 10 January 2022

مرے دن کی طرح روشن مری ہر رات ہوتی ہے

 مِرے دن کی طرح روشن مِری ہر رات ہوتی ہے

دعا ماں کی ہر اک موسم میں میرے ساتھ ہوتی ہے

عجب دستور ہے اک یہ بھی اظہارِ محبت کا

زباں خاموش رہتی ہے نظر سے بات ہوتی ہے

تلاش رزق میں جب بھی کبھی گھر سے نکلتا ہوں

مِرے ہمراہ پیہم گردش حالات ہوتی ہے